آج جب ہم ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کو یاد کر رہے ہیں ، تو ضروری ہے کہ ہم اس دن کو محض ایک تاریخی واقعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے حال اور مستقبل کی روشنی میں بھی دیکھیں۔ 8 اگست 1942 کو جب گوالیا ٹینک میدان (ممبئی) میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ’’بھارت چھوڑو‘‘ کی قرارداد منظور کی، تو شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ یہ دن آنے والے برسوں میں عوامی بیداری، حوصلے اور جدوجہد کی ایک علامت بن جائے گا۔ اگلے ہی روز، 9 اگست کو ملک بھر میں انقلاب کی چنگاریاں پھوٹ پڑیں، اور ہر طبقے نے—خواہ وہ کسان ہو، مزدور ہو، طالب علم ہو یا گھریلو خواتین—آزادی کی لڑائی میں شرکت کی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس تحریک کا نعرہ ’’بھارت چھوڑو‘‘ یوسف مہر علی نے دیا تھا، جو اُس وقت میئر تھے اور جنہوں نے تحریک آزادی میں مثالی کردار ادا کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی نصابی کتابیں اور میڈیا ان جیسے بے لوث مجاہدین کے ناموں سے خالی ہوتی جا رہی ہیں۔ جبکہ ان کے تذکرے میں نہ صرف تاریخ کی سچائی چھپی ہے بلکہ وہ آج بھی نوجوان نسل کو ملک سے محبت، قربانی اور مزاحمت کا سبق دے سکتے ہیں۔
تحریکِ بھارت چھوڑو صرف انگریزوں کے خلاف نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عوامی بیداری کی تحریک تھی۔ یہ اس سوچ کے خلاف تھی جو عوام کو غلامی، خوف اور مایوسی کے اندھیروں میں جکڑنا چاہتی تھی۔ یہی وہ تحریک تھی جس نے ملک گیر سطح پر اتحاد، یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں—سب نے مل کر یہ لڑائی لڑی۔
اس تحریک میں جہاں مہاتما گاندھی، مولانا آزاد، پنڈت نہرو، سبھاش چندر بوس اور جے پرکاش نارائن جیسے مجاہدین آزاد شریک ہوئے تھے، وہیں ارونا آصف علی، سروجنی نائیڈو، حمیدہ طیب جی اور صغریٰ خاتون جیسی خواتین بھی ناقابلِ فراموش کردار کی حامل رہیں۔ یہ خواتین اس وقت میدان میں ڈٹی رہیں جب تمام مرد قائدین کو انگریزوں نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک آزادی صرف مردوں کی جدوجہد نہیں تھی بلکہ اس میں خواتین کا کردار بھی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
آج جب ہم ’’نئے بھارت‘‘ کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس بھارت کی بنیاد یکجہتی، انصاف اور مساوات پر رکھی گئی تھی۔ مگر افسوس، آج ہم اس ورثے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف آزادی کی لڑائی لڑنے والے نامعلوم مجاہدین کے مجسمے بھی مٹتے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ عناصر جو اس تحریک کے مخالف تھے، آج خود کو قوم پرستی کا واحد ٹھیکے دار بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
آج NCERTکی نصاب کی کتابوں سے اُن تمام شہداء جنہوںنے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں جیسے ٹیپو سلطان، حیدر علی سراج الدولہ وغیرہ کا نام و نشان ختم کیا جارہا ہے بلکہ ہٹادیا گیا ہے۔ ابوالکلام آزاد جیسی شخصیت کا نام و نشان بھی یہاں تک کہ کانگریس کے پوسٹروں اور بینروں سے غائب ہو رہا ہے اور یہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔
آج ہمیں جناب سنجے سنگھ (R.S)M.Pکی تقریر کو یاد کرنا چاہئے کہ ’’ مسلمانوں اور دلتوں کی آنے والوں نسلوں کو تاریخ زیادہ پڑھنا چاہئے اور اپنے مجاہدین آزادی کو یاد کرنا چاہئے۔‘‘
آج تمام سیاسی رہنمائوں سے سوال کیا جانا چاہئے کہ وہ بتائیں (۱) جئے ہند، (۲) سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا، (۳) انقلاب زندہ باد، (۴) مادرِ وطن بھارت کی جئے، (۵) ترنگے کا روپ، (۶) سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے وغیرہ نعرے کس نے دئیے۔ آج ان مجاہدین کے نام موجودہ نسل کو یاد نہیں آنے والی نسلوں کی تو دور کی بات ہے۔
15اگست اور 26جنوری کو سرکاری اشتہار دئیے جائیں تو اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ مسلم مجاہدین کو بھی اس میں جگہ دی جائے، ان کے ساتھ کسی طرح سوتیلا سلوک یا تفریق نہ کی جائے جس کا چلن آج کل کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ۔ یہاں تک کہ ان کہیں نام و نشان نہیں ہوتا حتی کہ ان کے یوم پیدائش و یوم شہادت پر بھی یاد نہیں کیا جاتا ہے۔
یاد رکھنا ہوگا کہ صرف ترنگا لہرانا ہی حب الوطنی نہیں بلکہ ان اقدار کو زندہ رکھنا بھی فرض ہے جن کے لیے ہمارے بزرگوں نے جیلیں کاٹیں، گولیاں کھائیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تحریک آزادی کے اصل پیغام کو سمجھیں اور ہر اُس طاقت کے خلاف کھڑے ہوں جو ملک کی ساجھی وراثت، جمہوریت اور آئینی اقدار کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔
آج جب ہم بھارت چھوڑو تحریک کو یاد کررہے ہیں، تو آئیے عہد کریں کہ ہم تاریخ کو صرف رٹنے کا مضمون نہیں بنائیں گے بلکہ اس سے سبق لیں گے، ہم ملک کے تمام باشندوں کو یکساں حقوق دینے کے اصول پر قائم رہیں گے، ہم ان تمام مجاہدین کا احترام کریں گے جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے میں قربانیاں دیں اور ہم آنے والی نسلوں کو بھی بتائیں گے کہ آزادی یونہی نہیں ملی، اسے قیمت چکا کر حاصل کیا گیا تھا۔
آخر میں، اُن لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس تحریک کا حصہ تھے، آج کے نوجوانوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ موبائل اسکرینوں سے نکل کر تاریخ کے اوراق کھولیں، کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ بھول جاتی ہے، وہ اپنی وراثت کے ساتھ ساتھ اپنا مستقبل بھی کھو دیتی ہے۔
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے









