اتر پردیش کے نائب وزیرِ اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے مدرسوں کے خلاف جو بیان دیا، اُس پر جو احتجاجی آوازیں اُٹھیں وہ کچھ زیادہ تعجب خیز نہیں تھیں۔ لیکن ہمارے نزدیک وہ وقت کا زیاں اور بلا وجہ بلند کی گئی آوازیں تھیں۔ اس لیے کہ یہ ایک ایسے شخص کا تبصرہ تھا جس نے کبھی انگریزوں کی مخالفت نہیں کی اورصرف اُس نے ہی نہیں، اُس کے بزرگوں نے بھی یہ کارِ خیر نہیں کیا تھا بلکہ اس کے برعکس اُس نے اور اُس کے بزرگوں نے انگریزوں کی چاپلوسی میں اپنا وقت صرف کیاتھا۔ اُس نے گاندھی، ترنگے اور مجاہدینِ آزادی کو کبھی عزت سے نہیں دیکھا جب کہ اِس کے برعکس مدرسوں کا قیام ہی اِس لیے ہوا تھا کہ وہ دین کی حفاظت بھی کریں اور انگریزوں سے مورچہ بھی لیں۔
انگریزوں نے ملک کے اقتدار کو ہی تہہ و بالا نہیں کیا تھابلکہ انھوں نے اپنے طریقۂ تعلیم اور طریقۂ علاج کو بھی مسلط کر کے دیسی طریقۂ تعلیم اور طریقۂ علاج کو بے دخل کیا تھا۔ ایسے وقت میں ہمارے بزرگوں نے یہ سوچا کہ ملک کواتنی جلدی آزاد کرانا نہ تو آسان ہے اور یہ جلد حاصل ہونے والامقصد نہیںلیکن دین کو بچا لیا جائے اور انگریزوں کو بے دخل کرنے کے لیے مدرسوں سے ایسے طالبِ علم تیار کیے جائیں جو کہ دین کے پیروکار بھی ہوں اور انگریزوں کے خلاف جدو جہد کا پیکر و نمونہ بھی۔اِ س لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ انگریزوں نے مسلمان علما، امرا اور مدرسوں کی داغ بیل ڈالنے والوں کے خلاف وہ قیامت ڈھائی کہ سینکڑوں کو تہِ تیغ کر دیا، پھانسی چڑھا دیا اور بے دردی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
معاملہ صرف مدارس کے خلاف نازیبا بیان بازی کا نہیںبلکہ مدارس کی اسناد کو بھی لپیٹے میں لینے کی کوشش کرنے کا ہے۔ وہ حکومت جو امتحانی مقابلوں کے پرچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی اور اُن میں شفافیت نہیں برت سکتی، وہ مدرسوں کے خلاف ہے۔ وہ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری جیسی سیکولر اور ہمہ گیر دعا تک پر پابندی عائد کر سکتی ہے۔جوحکومت گائےکی محبت کے دعوؤں کے باوجود اُسے بلا تخصیص قومی جانور یا مذہبی اعتبار سے ماں قرار دینے کے لیے کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں، وہ کس طرح دوسرے مذاہب کے لوگوں پر اپنے عقائد اور خیالات کو تھوپ سکتی ہے۔
اسی طرح یونی فارم سوِل کوڈ کی وبا پھیلائی جا رہی ہےاور اسلام جیسے روشن خیال اور ترقی پسند مذہب کے خلاف محاذ آ ر ا ئی کو عام کیا جا رہا ہے۔ پچہتر سال سے زیادہ عرصے تک مدرسوں کے رول پر، یونی فارم سوِل کوڈ کو لے کر مدرسوںاور ان کی اسناد کو لے کر جو سوالات نہیں اُٹھے، اُن سوالات کو اٹھایا جا رہا ہے اور ان میں نئے انداز سے رنگ بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ تو اطمینان اور خوشی کی بات ہے کہ اس ملک کا دستور اور دستور کی تشریح اور وضاحت کرنے والی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ زیادہ تر معاملات میں سرکار کا ساتھ نہیں دے رہی ہیںاور نتیجتاً سرکار کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ سرکار کو یہ خوب معلوم رہنا چاہیے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے مذہب سے انحراف اور گریز کا کبھی ساتھ نہیں دے سکتا۔اس لیے سرکاراب بھی اگر اِس سے باز آ جائے تو بہتر ہے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس شعبۂ اسلامک اسٹڈیز ہیں)۔









