ممبئی 8اگست: شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی چھوڑ کر ایکناتھ شندے والی شیوسینا میں شامل ہوئے اراکین پارلیمنٹ سے وزیر اعظم مودی کی ملاقات پر سوال اٹھایا۔ ادھو ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کے پاس احتجاج کر رہے نوجوانوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے، لیکن غداروں سے ملاقات کے لیے وقت ہے۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل نریندر مودی نے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ناشتے پر میٹنگ کی تھی۔ اس کے بعد ایکناتھ شندے اور ان کی پارٹی کے 6 نومنتخب اراکین نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی۔ ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے سوال کیا کہ کیا مودی اور شیوسینا (یو بی ٹی) چھوڑ نے والے 6 اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہونے والی ملاقات کا مقصد سپریم کورٹ کو ڈرانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شیوسینا (یو بی ٹی) کی قیادت والی پارٹی کی اس عرضی پر سماعت چل رہی ہے جس میں الیکشن کمیشن کے شندے گروپ کو اصلی شیوسینا ماننے کے فیصلے کو چیلنج دیا گیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کی بنیاد پر ہوگا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کے پاس نوجوانوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے، لیکن غداروں سے ملنے کا وقت ہے۔ غداروں کو یہ بھروسہ دیا جا رہا کہ وزیر اعظم ان کے ساتھ ہیں۔ کیا آپ سپریم کورٹ کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ وزیر اعظم اور پارٹی کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ٹھاکرے نے سوال کیا کہ ’’جب معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے تب غداروں سے ملنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کی عرضی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے اس فیصلے کو چیلنج کرتی ہے، جس میں 6 اراکین پارلیمنٹ کے حریف شیوسینا میں انضمام کو تسلیم کیا گیا تھا۔ دھو ٹھاکرے نے سوال کیا کہ ’’کیا وزیر اعظم عدلیہ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یا مہارشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو دھمکا رہے ہیں؟‘‘









