ہلدوانی 8اگست:’’آج ہندوستان کا پورا تعلیمی نظام اور روزگار کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ ڈگری تو مل رہی ہے، لیکن ہاتھ میں ہنر نہیں ہے۔ ’نئی تعلیمی پالیسی 2020‘ نے 2025 تک 50 فیصد طلبا کو ووکیشنل ایجوکیشن سے جوڑنے کا ہدف رکھا، جس کا 2 فیصد ہی زمین پر اتر سکا ہے۔ سارا منصوبہ ہوا ہوائی ہے۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے اس جلسۂ عام کی کچھ تصویریں اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہیں۔ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس صدر نے بی جے پی حکومت پر زوردار حملے کیے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’حکومت کی معاشی پالیسیاں روزگار پیدا کرنے والی سرمایہ کاری کی جگہ کچھ چنندہ بڑے صنعتی گروپوں کو فائدہ پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان ہر سال 50 لاکھ گریجویٹس تیار کرتا ہے، لیکن گریجویٹ سطح کی صرف 28 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔
یعنی ہر سال 22 لاکھ نوجوانوں کے خواب شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔‘‘
ہلدوانی میں جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے ’پیپر لیک‘ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتراکھنڈ سَب آرڈینیٹ سروس سلیکشن کمیشن کے بھرتی امتحانات سے لے کر کئی دیگر بھرتیوں تک ’پیپر لیک‘ صنعت بن گیا ہے۔ ملازمتیں فروخت ہوتی ہیں۔ بھرتی مافیا پھل پھول رہا ہے۔ ملازمت ان کو ملتی ہے جن کے پاس پیسہ اور بی جے پی میں کنکشنز ہیں۔‘‘ وہ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ساتھیو، ہم نے پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے نوجوانوں کا ساتھ دیا۔ پچھلے کئی دنوں سے پارلیمنٹ کے اندر بھی ہم ان کے ساتھ ہوئی بربریت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘









