بھوپال 1اگست:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ پولیس خدمت، حساسیت اور اچھے نظم و نسق کے اصول کے ساتھ مکمل لگن سے کام کرے۔ یہی حقیقی سماجی خدمت ہے، یہی عوام کی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں عوام دوست پولیسنگ کی بات ہو تو ہماری سنسکاردھانی جبل پور پولیس کا نام سب سے پہلے آنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیسنگ کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے نتائج اب نمایاں ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ آئیڈینٹیفکیشن سسٹم کے ذریعے 16 لاکھ سے زیادہ فنگر پرنٹ ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہوئے 1200 سے زیادہ پیچیدہ مقدمات کو تیزی سے حل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ NAFIS کے ذریعے نامعلوم متوفیوں کی شناخت قائم کرنے کے معاملے میں مدھیہ پردیش پورے ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ اسی طرح ای۔سمن نظام کے ذریعے 36 لاکھ سے زیادہ سمن اور وارنٹ کی تعمیل کرائی جا چکی ہے۔ یہ نظام ملک میں سب سے پہلے مدھیہ پردیش نے ہی نافذ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ای۔ثبوت پورٹل پر 2 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ڈیجیٹل شواہد درج کیے جا چکے ہیں۔ این سی آر پی پورٹل اور 1930 ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات پر فوری ای۔زیرو ایف آئی آر درج کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا مدھیہ پردیش ملک میں صف اول میں ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ہفتہ کو جبل پور شہر کے تلوارہ میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے 22.57 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ 96 کانسٹیبل رہائش گاہوں، تقریباً 3.21 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ نئے ڈویڑنل پولیس دفتر اور تقریباً 2.80 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ تلوارہ پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے میدان میں سیف کلک 2.0 ملک کی سب سے بڑی بیداری مہم ثابت ہوئی ہے۔ پورے صوبے میں 8 ہزار سے زیادہ پروگرام منعقد کیے گئے، 1 کروڑ سے زیادہ شہریوں تک براہ راست رسائی حاصل کی گئی، جبکہ ڈیجیٹل ذرائع سے 6 کروڑ سے زیادہ افراد تک محفوظ انٹرنیٹ اور سائبر سکیورٹی کا مؤثر پیغام پہنچایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جبل پور شہر کے مہاراج پورا میں نیا پولیس تھانہ بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جبل پور میں ہائی کورٹ موجود ہے۔ پورے صوبے سے پولیس اہلکار یہاں آتے رہتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے قیام کے لیے پولیس بیرکوں میں سہولیات بڑھائی جائیں گی۔ یہاں قیام کرنے والے پولیس اہلکاروں کو میس استعمال کرنے پر سرکاری ضابطوں اور اہلیت کے مطابق رقم دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ساون کا مقدس مہینہ جاری ہے۔ کانوڑ یاتری بڑی تعداد میں سفر کریں گے۔ پولیس انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کانوڑ یاتریوں کو کسی بھی قسم کی دشواری یا سفر کے دوران پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جس طرح مجرموں نے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے، ہماری پولیس کو بھی انہی کے انداز میں مقابلہ کرنا سیکھنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے 1117 تھانوں اور 693 سینئر دفاتر کو ڈیجیٹل طور پر ایک دوسرے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ فوری اور درست تفتیش کے لیے پولیس افسران کو 25 ہزار ٹیبلیٹس فراہم کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ صوبے میں عام شہریوں کی ہنگامی حفاظت کے لیے ہم نے ڈائل 112 سروس کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ تقریباً 972 کروڑ روپے کی لاگت سے 1200 نئی اور جدید گاڑیاں تمام اضلاع کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مجرموں کے خلاف ہماری سخت کارروائی جاری ہے، تو دوسری طرف ہماری پولیس کی انسانی حساسیت بھی بے مثال ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ پولیس محکمہ نے “آپریشن مسکان” کے ذریعے بچھڑے ہوئے معصوم بچوں کو ان کے والدین سے ملا کر ان کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ لوٹائی ہے، جبکہ “سرجن پروگرام” کے ذریعے ہماری ماؤں، بہنوں اور بچوں کو ایک نیا حفاظتی حصار ملا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہماری حکومت نے “نشے سے دوری ہے ضروری 2.0” مہم شروع کی ہے۔ اس کے تحت صوبے میں سخت چیکنگ مہم چلائی جا رہی ہے اور منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث مجرموں کے خلاف مسلسل سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اس مہم کو ورلڈ بک آف ریکارڈز، لندن کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر اعزاز سے نوازا گیا ہے۔