بھوپال:22؍جولائی:وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم اور آیوش مسٹر اندر سنگھ پرمار نے کہا کہ معیاری اعلیٰ تعلیم ہی ترقی یافتہ مدھیہ پردیش اور ترقی یافتہ بھارت کی مضبوط بنیاد ہے۔ ہمارا مقصد صرف قومی جائزہ و منظوری کونسل (NAAC) کی گریڈ حاصل کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کو معیاری، روزگار سے ہم آہنگ، اختراع پر مبنی اور اقدار پر مبنی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تعلیمی ادارے معیار کے اعلیٰ ترین پیمانوں پر پورا اتریں گے، تبھی مدھیہ پردیش اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ملک کی صفِ اول کی ریاست بنے گا۔ مسٹر پرمار بھوپال میں ریاستی سطح کے جائزہ و منظوری سیل ( State Level Assessment and Accreditation Cell-SAAC) کے افتتاح، اس کے سرکاری لوگو کی رونمائی اور آئی کیو اے سی رابطہ کاروں کے تین روزہ تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیربرائے اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ ریاست کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیار میں بہتری، ادارہ جاتی عمدگی اور قومی جائزہ و منظوری کونسل (NAAC) کے معیار کے مطابق بہتر کارکردگی یقینی بنانے کے مقصد سے ایس اے اے سی قائم کیا گیا ہے۔ یہ سیل کالجوں اور جامعات کو جائزہ اور منظوری کے ہر مرحلے میں تربیت، رہنمائی، تکنیکی تعاون اور مسلسل مشاورت فراہم کرے گا۔ اس سے ادارے قومی معیار کے مطابق اپنے تعلیمی اور انتظامی نظام کو مزید مضبوط بنا سکیں گے۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ ریاست کے 341 سرکاری اور غیر سرکاری کالجوں اور جامعات کے آئی کیو اے سی رابطہ کاروں کو تین روزہ تربیت کے ذریعے معیار کے پیمانوں، دستاویزی عمل، ادارہ جاتی اصلاحات اور منظوری کے عمل کی باریکیوں سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ یہ تربیت صرف طریقہ کار تک محدود نہیں بلکہ کالجوں میں معیار پر مبنی کام کی ثقافت کو فروغ دینے کی ایک جامع مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور کالجوں کو صرف این اے اے سی منظوری تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ قومی و بین الاقوامی معیار اور عالمی مسابقت کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس اے اے سی کے ذریعے ریاست کے تمام کالجوں کے ساتھ سرکاری اور نجی جامعات کو بھی معیار کے جائزہ کے عمل سے جوڑا جائے گا۔ یہ اقدام مدھیہ پردیش کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو نئی سمت دینے کے ساتھ ریاست کی قومی سطح پر ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا۔
مسٹر پرمار نے کہا کہ مدھیہ پردیش قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے مؤثر نفاذ میں ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں شامل ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق بھارتی علمی روایت، اختراع، تحقیق اور مہارت کی ترقی کو اعلیٰ تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔ معیاری تعلیم یقینی بنانے کے لیے کالجوں میں خالی آسامیوں پر مسلسل تقرریاں کی جا رہی ہیں اور جامعات میں بھی جلد خالی عہدوں کو پْر کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بروقت داخلے، امتحانات اور نتائج کو یقینی بناتے ہوئے تعلیمی کیلنڈر پر عمل درآمد ہماری ترجیح ہے۔ بروقت داخلہ، باقاعدہ کلاسیں، مقررہ وقت پر امتحانات، شفاف اور تیز رفتار جانچ اور وقت پر نتائج کا اعلان تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ امتحانی نظام کو مزید شفاف، قابلِ اعتماد اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیجیٹل جانچ کے نظام کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی حاضری سارتھک ایپ کے ذریعے یقینی بنائی جا رہی ہے اور اسی نظام کے ذریعے طلبہ کی حاضری بھی یقینی بنانے کی سمت میں کام ہو رہا ہے۔
وزیربرائے اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ این اے اے سی صرف گریڈ دینے والا ادارہ نہیں بلکہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے معیار، کام کی ثقافت، اختراع، شفافیت اور جوابدہی کا جامع جائزہ لیتا ہے۔ اس لیے ہر کالج میں تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں کو مضبوط بنایا جائے، اساتذہ اور طلبہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنائی جائے اور کیمپس میں مثبت، منظم اور علمی ماحول پیدا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کالجوں میں لائبریری، جدید تجربہ گاہیں، کھیل کے میدان، سرسبز اور صاف ستھرا کیمپس، تحقیق، اختراع، انٹرن شپ، صنعتوں کے ساتھ اشتراک، ڈیجیٹل تدریس، طلبہ کی شمولیت اور سماجی ذمہ داری کو ادارہ جاتی ثقافت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ بہترین کیمپس، فعال علمی ماحول اور معیاری تدریس ہی کسی بھی ادارے کی حقیقی شناخت ہوتی ہے۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے اعلیٰ تعلیم مسٹر انوپم راجن نے کہا کہ ریاستی حکومت قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے مؤثر نفاذ، ڈیجیٹل اختراع، تحقیق اور مہارت کی ترقی کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو قومی اور عالمی سطح پر نئی شناخت دلانے کے لیے پْرعزم ہے۔ انہوں نے ایس اے اے سی کو باقاعدگی سے تربیتی پروگرام منعقد کرنے اور کالجوں و جامعات کو قومی اور بین الاقوامی معیار کے ساتھ ساتھ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کے مطابق تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری کے لیے سب کی شراکت، خود احتسابی اور مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ طلبہ کے مفاد کو مرکز میں رکھ کر کیے گئے اقدامات ہی ایس اے اے سی کے تصور کو کامیاب بنائیں گے۔
کمشنر اعلیٰ تعلیم مسٹر پربل سپاہا نے استقبالیہ خطاب میں ایس اے اے سی کے قیام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ معیاری اعلیٰ تعلیم ریاست کی مجموعی ترقی کی بنیاد ہے۔ ایس اے اے سی اداروں میں معیار، اختراع، تحقیق، بہتر طرزِ حکمرانی اور مسلسل بہتری کی ثقافت کو فروغ دینے کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
تین روزہ تربیتی پروگرام میں ماہرین کی جانب سے معیار کی یقین دہانی، جائزہ و منظوری کے عمل، آئی کیو اے سی کے کردار، دستاویزی عمل، ادارہ جاتی بہترین طریقہ کار اور قومی معیار سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔اس پروگرام میں ایڈیشنل ڈائریکٹر مسٹر متھرا پرساد، ایس اے اے سی کی رکن سکریٹری اور پروگرام رابطہ کار ڈاکٹر اْشا کے۔ نائر، موضوعاتی ماہرین، ماہرینِ تعلیم، کالجوں کے پرنسپل اور ریاست بھر سے آئے ہوئے آئی کیو اے سی رابطہ کار موجود تھے۔