بھوپال:21؍جولائی:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ بڑوانی کے نام میں ہی قدرت بسی ہوئی ہے، کیونکہ اس ضلع کا نام ہی “بڑ کے جنگل” یعنی برگد کے عظیم درختوں سے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح برگد کا درخت وسیع سایہ اور ہمیشہ رہنے والی ہریالی کی علامت ہے، اسی طرح بڑوانی ضلع یہاں کے لوگوں کی محنت اور اختراعات کے بل پر پورے ملک میں زراعت، صنعت کاری اور اختراع کی نئی مثال بن رہا ہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو منگل کو مدھیہ پردیش اسمبلی میں واقع وزیراعلیٰ چیمبرسے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بڑوانی ضلع میں منعقدہ بلرام کرشی مہوتسو سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے کسانوں سے کہا کہ بلرام کرشی مہوتسو سب کے لیے ایک سنہرا موقع ہے۔ انہوں نے کسانوں خاص طور پر نوجوان کسانوں سے اپیل کی کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس زرعی میلے میں شرکت کریں، کھیتی میں ٹیکنالوجی اور اختراع کو شامل کریں، ایگری اسٹارٹ اپ شروع کریں، جدید زرعی تکنیک سیکھیں، حکومت کی اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور زرعی ماہرین سے مناسب مشورہ لیں۔ حکومت ہر قدم پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسانوں کی شرکت ہی بلرام کرشی مہوتسو کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
وزیراعلیٰ مسٹر ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہمارے مرچ پیدا کرنے والے کسان اب روایتی طریقوں کو چھوڑ کر سائنسی کھیتی، جدید گریڈنگ اور بہتر پیکیجنگ اپنا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑوانی کی مرچ کی مانگ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت بڑوانی کی لال مرچ کو جی آئی ٹیگ دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک بار یہ ٹیگ مل گیا تو دنیا کے بازاروںمیں بڑوانی کی مرچ کو خصوصی شناخت حاصل ہوگی اور اسے عالمی برانڈ کے طور پر نئی پہچان ملے گی۔ اس موقع پر بڑوانی ضلع کے پانسیمَل کے رکنِ اسمبلی مسٹر شیام برڈے بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اچھی فصل اسی وقت ہوگی جب پانی کھیت کے آخری سرے تک پہنچے گا۔ ہماری حکومت بڑوانی میں تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے سیندھوا، نیوالی، پاٹی، ناگلواڑی لفٹ آبپاشی اسکیم اور شہید بھیما نائک ساگر (لوئر گوئی) پروجیکٹوںپر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ ان پروجیکٹوںکی تکمیل کے بعد بڑوانی ضلع کے 319 گائووںکی ایک لاکھ 21ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی زمین سیراب ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بڑوانی ہمارے لیے خوش بختی کی علامت ہے۔ کسان فلاحی سال کی پہلی تاریخی “زرعی کابینہ” ہم نے یہیں منعقد کی تھی۔ اس میں ہماری حکومت کی بنیادی توجہ آبپاشی کی صلاحیت میں غیر معمولی ترقی پر رہی۔ ہم ریاست کی آبپاشی کی صلاحیت کو 100 لاکھ ہیکٹر تک پہنچانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بڑوانی کے کسانوں سے کھیتیا زرعی پیداوار منڈی کو تمام سہولیات سے آراستہ ایک “مثالی منڈی” کے طور پر اپ گریڈ اور ترقی دینے کا جو وعدہ ہم نے کیا ہے، اسے بھی پورا کریں گے۔آبپاشی، کھاد اور بیج ہماری ترجیحات ہیں۔ کسان کسی بھی قسم کے وہم یا افواہ میں نہ آئیں، ریاست میں کھاد کی کوئی کمی نہیں ہے۔کسانوں کو اعلیٰ معیار کے بیجوں کے لیے باہر دربدر نہ ہونا پڑے، اس مقصد کے لیے بڑوانی میں 50 ایکڑ کے وسیع رقبے پر “مثالی بیج پیداوار مرکز” بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بڑوانی کی سرزمین “ہیرے جیسے سپوت” اور “سونے جیسی فصل” کے لیے مشہور ہے۔ اس ’پوترماٹی‘ کو عوامی رہنما بھیما نائک اور کھاجیا نائک جیسے بہادر اور خوددار سپوتوں نے اپنی قربانیوں سے، اور محنتی کسان بھائیوں نے اپنے پسینے سے سینچا ہے۔ یہاں کی بہترین کپاس، لاجواب کیلے اور بے مثال مرچ ملک و بیرونِ ملک اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔ یہاں کے کسانوں کی محنت اور زرعی ثقافت کو سلام ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑوانی ضلع نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر جدیدیت اور وقت کے تقاضوں کے مطابق کھیتی کی جائے تو اناج کے گودام بھی بھر سکتے ہیں اور خزانے بھی۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کی طاقت سے ہم مدھیہ پردیش کو ٹیکسٹائل ہب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کپاس کی ریکارڈ پیداوار بڑوانی کی سب سے بڑی شناخت ہے۔ سیندھوا، راجپور اور پاٹی کے کسان توکمال ہی کر رہے ہیں۔یہاں کے کسان تقریباً پانچ ہزار ہیکٹرکے وسیع رقبہ میں ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم جیسی جدید تکنیک سے کپاس اگا رہے ہیں، جس سے پیداوار، معیار اور آمدنی میں اضافہ جبکہ محنت، لاگت اور وقت میں کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہمارے کسانوں نے ڈرپ آبپاشی اور جدید ٹشو کلچر تکنیک کے ذریعہ ایسی بہترین کاشت کی ہے کہ بڑوانی کے کیلے کی مٹھاس نے خلیجی ممالک کے عالمی بازاروںمیں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ہماری حکومت راجپور تحصیل کے گھٹوا میں جو میگا فوڈ پروسیسنگ کلسٹر قائم کر رہی ہے، اس سے کیلا پیدا کرنے والے کسانوں کی قسمت بدلے گی۔ یہاں جدید پیک ہاؤس، کولڈ چین اور گریڈنگ یونٹس قائم کی جائیں گے، جس سے کیلے کی شیلف لائف بڑھے گی اور کسان پیداواری تنظیموں کو بڑی کمپنیوں سے جوڑا جائے گا۔ ہم یہاں پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی ایشی چین کھڑی کریںگے کہ بڑوانی کا کیلا یہیں سے برانڈ بن کر بیرونِ ملک میں ایکسپورٹ ہوگا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اب پورے سال کے لیے ایک ہی فصل قرض منظور ہوگا اور اس کی ادائیگی کے لیے مکمل بارہ ماہ کا خاطر خواہ وقت ملے گا۔ترقیاتی کاموں کیلئے اگر دیہی علاقوں میں کسی کسان کی زرعی زمین حاصل کی جاتی ہے تو حکومت اسے بازار قیمت سے چار گنا زیادہ معاوضہ دے گی۔انہوںنے کہاکہ بازار کے اتار چڑھائو سے بچانے کیلئے ہم نے ریاست کے 7لاکھ سے زیادہ سویابین کسانوں کے کھاتوں میں ایک ہزار475کروڑ روپے ٹرانسفر کئے ہیں۔ س









