17 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ انصاف منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف صرف عدالتوں، قوانین اور فیصلوں کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا اصول ہے جس کے بغیر نہ امن قائم رہ سکتا ہے، نہ جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ ہی ترقی پائیدار بن سکتی ہے۔ انصاف وہ بنیاد ہے جس پر ایک مہذب، پُرامن اور باوقار معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ جب انصاف کمزور پڑ جاتا ہے تو ظلم طاقت بن جاتا ہے، قانون پر اعتماد ڈگمگانے لگتا ہے اور معاشرے میں بے چینی، نفرت اور انتشار جنم لیتا ہے۔
دنیا کے ہر مذہب نے انصاف، رحم، سچائی اور انسانی احترام کی تعلیم دی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اسلام نے انصاف کو اپنے بنیادی اصولوں میں شامل کیا ہے اور اسے صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر انسان کے لیے لازم قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید بار بار عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ انصاف کرتے وقت نہ رشتہ داری دیکھی جائے، نہ دولت، نہ طاقت اور نہ ہی ذاتی پسند و ناپسند۔
آج دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف انسان مصنوعی ذہانت (AI)، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے، تو دوسری طرف جنگیں، نسل کشی، دہشت گردی، بے گھر ہوتے لاکھوں انسان، بھوک، غربت، انسانی حقوق کی پامالی اور طاقت کے بل پر فیصلے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ اگر ترقی کے باوجود انسان کو انصاف اور تحفظ میسر نہ ہو تو ایسی ترقی کی حقیقی قدر کیا رہ جاتی ہے؟
عالمی انصاف کا تصور اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والے مظالم پر ردِعمل طاقت، سیاست اور مفادات کے مطابق بدل جاتا ہے۔ اگر کہیں جرائم پر فوری آواز بلند کی جائے اور کہیں ہزاروں بے گناہوں کے قتلِ عام پر عالمی ضمیر خاموش رہے، تو انصاف کے یکساں معیار پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔ انصاف کی اصل طاقت اس کی غیر جانبداری میں ہے، اور جب یہی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے تو انصاف پر عوام کا اعتماد بھی اُٹھنے لگتا ہے۔
آج عالمی انصاف کا سب سے بڑا امتحان غزہ کی تباہ حال سرزمین پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ہزاروں بے گناہ شہری، خواتین اور بچے مسلسل جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں، اسپتال، اسکول، عبادت گاہیں اور بنیادی شہری ڈھانچے برباد ہو چکے ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف حصوں میں یوکرین، سوڈان، میانمار اور دیگر تنازعات بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہے ہیں۔ جب طاقتور ممالک اپنے سیاسی یا کسی اور مفادات کے مطابق بعض مظالم پر سخت مؤقف اختیار کریں اور بعض پر خاموشی یا مختلف معیار اپنائیں، تو عالمی انصاف کے تصور پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ امریکہ سمیت بااثر عالمی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کی غیر معمولی سفارتی، عسکری اور سیاسی حمایت کے باعث بھی دنیا کے مختلف حلقوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا اطلاق ہر جگہ یکساں نہیں ہو رہا۔ اسی طرح چین وغیرہ میں مسلمانوں سے متعلق انسانی حقوق کے خدشات بھی عالمی سطح پر مسلسل زیرِ بحث رہے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مظلوم کی شناخت، مذہب، قومیت یا علاقے سے نہیں بلکہ صرف انسانیت دیکھی جائے۔
ہمارے ملک میں بھی انصاف کا تصور صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک غریب طالب علم صرف مالی تنگی کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو، جب ایک باصلاحیت نوجوان ڈگری ہونے کے باوجود روزگار سے محروم رہے، جب ایک مزدور کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملے، یا جب کسی شہری کے ساتھ مذہب، ذات، زبان یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز برتا جائے، تو یہ سب انصاف کے دائرے میں آنے والے اہم سوالات ہیں۔ انصاف صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ ہر انسان کو عزت، مساوی مواقع اور باوقار زندگی فراہم کرنے کا نام بھی ہے۔
بھارت جیسے عظیم جمہوری ملک میں بھی انصاف کا معیار صرف عدالتی فیصلوں سے نہیں بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی سے جانچا جاتا ہے۔ جب مذہب، ذات، زبان یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی رویوں کی شکایات سامنے آئیں، جب نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد، عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات، بلڈوزر کارروائیوں، قانون سے آگے بڑھ کر اقدامات یا کمزور طبقات اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھیں، تو یہ سب انصاف کے دائرے میں آتے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کی غیر جانب داری، قانون کی یکساں عمل داری اور آئینی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں بعض ایسے واقعات بھی سامنے آئے جنہوں نے انصاف کے بارے میں عوامی بحث کو مزید گہرا کیا۔ مثال کے طور پر بلقیس بانو مقدمے میں سزا یافتہ افراد کی رہائی اور ان کے استقبال کے مناظر نے ملک بھر میں ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔ اسی طرح ایک دوسرے معاملے میں قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ دارا سنگھ کی رہائی پر بھی مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے۔ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ انصاف صرف قانونی کارروائی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی اخلاقی قوت سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔آج ایک نیا چیلنج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ آنے والے برسوں میں وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو اپنی نئی نسل کو معیاری تعلیم، جدید ہنر اور ٹیکنالوجی سے جوڑیں گی۔ اگر تعلیم، مہارت اور ترقی کے مواقع صرف چند خوش حال طبقات تک محدود رہ گئے تو یہ بھی ایک نئی قسم کی ناانصافی ہوگی، جس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے۔
تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کی فکری اور تہذیبی میراث ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہو تو وہ مکمل شفافیت، قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن کسی بھی ایسے اقدام سے گریز ضروری ہے جس سے تعلیم، طلبہ کے مستقبل یا علمی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق حالیہ تنازع نے بھی ملک بھر میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ قانون کی عمل داری کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے تحفظ اور طلبہ کے مفاد کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، ایک جگہ اور فرمایا کہ ــ’’ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔
یہ وہ تعلیم ہے جو پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم پیغام رکھتی ہے کہ اختلاف، تعصب یا دشمنی بھی انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
اسلام نے بھی قانون کی برابری کو عملی طور پر نافذ فرمایا۔ واضح کیا کہ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب طاقتور کو رعایت دی جائے اور کمزور کو سزا ملے۔ اسلام نے قانون کی نظر میں سب کو برابر قرار دیا اور یہی اصول آج جدید جمہوری نظاموں اور Rule of Law کی بنیاد بھی سمجھا جاتا ہے۔
آج دنیا کو ایسے ہی غیر جانب دار انصاف کی ضرورت ہے، جو طاقت، مفادات اور تعصبات سے بالاتر ہو۔ ایسا انصاف جو ہر انسان کے جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کا یکساں تحفظ کرے۔ یہی وہ فکر ہے جو پائیدار امن، سماجی ہم آہنگی اور عالمی بھائی چارے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے بھی آئینی حقوق، ماحولیات اور مقامی آبادی کے مسائل کو پرامن اور جمہوری انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کی طاقت اسی میں ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، پرامن آوازوں کو سنا جائے اور عوامی مطالبات کا جواب مکالمے اور آئینی طریقوں سے دیا جائے، نہ کہ انہیں نظر انداز کر کے۔
عالمی یومِ انصاف ہمیں صرف حکومتوں اور عدالتوں کی ذمہ داری یاد نہیں دلاتا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم کسی ضرورت مند طالب علم کی تعلیم میں مدد کریں، کسی بے روزگار نوجوان کو ہنر سیکھنے کا موقع فراہم کریں، مظلوم کی آواز بنیں، اور نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیں، تو ہم انصاف کو صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انصاف کو صرف قانونی اصطلاح یا سیاسی نعرہ نہ بنایا جائے بلکہ اسے قومی اور انسانی کردار کا حصہ بنایا جائے۔ ایسا انصاف جو امیر و غریب، طاقتور و کمزور، اکثریت و اقلیت، مرد و عورت اور ہر شہری کے لیے یکساں ہو۔ کیونکہ جہاں انصاف مضبوط ہوتا ہے وہاں امن قائم ہوتا ہے، معیشت مستحکم ہوتی ہے، تعلیم فروغ پاتی ہے، نوجوانوں کو مواقع ملتے ہیں اور قومیں ترقی کرتی ہیں۔ لیکن جہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے وہاں بداعتمادی، نفرت، انتشار اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔
آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ایسے انصاف کی ہے جو غزہ کے بچوں، روہنگیا مسلمانوں، جنگ زدہ علاقوں کے متاثرین، بھارت کے ہر شہری، غریب طالب علم، مزدور، کسان، خواتین، اقلیتوں اور ہر کمزور انسان کے لیے یکساں ہو۔ انصاف اگر صرف طاقتور کے حق میں اور کمزور کے خلاف استعمال ہونے لگے تو وہ انصاف نہیں بلکہ طاقت کا ایک اور نام بن جاتا ہے۔
عالمی یومِ انصاف کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی ذات، اپنے خاندان، اپنے اداروں اور اپنے معاشرے میں انصاف کو فروغ دیں گے۔ اختلاف کے باوجود انصاف، طاقت کے باوجود انصاف، اور مفاد کے بجائے حق کو ترجیح دینا ہی ایک مہذب قوم کی پہچان ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت سے سلطنتیں قائم کی جا سکتی ہیں، مگر صرف انصاف ہی قوموں کو دیرپا عزت، استحکام، امن اور انسانیت کا حقیقی مقام عطا کرتا ہے۔









