حصار، 12 جولائی (یو این آئی) ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا کہ ریاستی حکومت ہریانہ کو عالمی سطح کا نالج اکانومی ہب بنانے کے ہدف کے ساتھ تعلیمی نظام کو ری ڈيزائن، ری امیجن اور ری انویسٹ کے اصول پر نیا روپ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جامع اصلاحات نافذ کی گئی ہیں تاکہ نوجوانوں کو معیاری اور مہارت پر مبنی تعلیم مل سکے۔گرو جمبھیشور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی، حصار میں منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ نے 7.58 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں 6 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے گرلز ہاسٹل کا سنگ بنیاد، 1.40 کروڑ روپے سے تعمیر شدہ نرسنگ ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کا افتتاح اور 18 لاکھ روپے کی لاگت سے بنے کھیجڑلی مہابلیدان اسمرتی شلپ اور ماتا امرتا دیوی سرکل کی نقاب کشائی شامل ہے۔ انہوں نے نرسنگ بلاک کا نام چودھری بھجن لال کے نام پر رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے بہترین نفاذ کے لیے یونیورسٹی کو ہریانہ حکومت کا این ای پی امپلیمینٹیشن ایکسی لینس ایوارڈ-2025 (گولڈ کیٹیگری) فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو تحقیق، اختراع اور صنعتوں کے ساتھ تال میل قائم کر کے نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آرٹیفیشل انٹیلی جنس، گرین ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور روبوٹکس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں نوجوانوں کو تربیت دے رہی ہے۔ تحقیق کو فروغ دینے کے لیے ہریانہ اسٹیٹ ریسرچ فنڈ میں اس سال بھی 20 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم مہیپال ڈھانڈا نے کہا کہ گرو جمبھیشور مہاراج نے ماحولیاتی تحفظ کا جو پیغام دیا، وہ آج بھی اہم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے فطرت کے تحفظ اور معیاری تعلیم کے ذریعے سماج کی تعمیر میں تعاون دینے کی اپیل کی۔