بھوپال:09؍جولائی:ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ خواتین اور بچوں کا آن لائن تحفظ آج ملک کو درپیش اہم سماجی اور تکنیکی چیلنجوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اسی چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے مقصد سے مدھیہ پردیش ریاستی خواتین کمیشن، آہان فاؤنڈیشن اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے اشتراک سے بھوپال میں منعقدہ خصوصی این جی او اجلاس میں ڈیجیٹل تحفظ، سائبر جرائم کی روک تھام اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔
مدھیہ پردیش ریاستی خواتین کمیشن کے احاطے میں منعقدہ پروگرام میں کمیشن کی رکن محترمہ سادھنا استھاپک نے کہا کہ ڈیجیٹل دور نے جتنے مواقع فراہم کیے ہیں، اتنے ہی نئے چیلنج بھی پیدا کیے ہیں۔ خواتین اور بچوں کا آن لائن تحفظ صرف قانون یا ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم کی بدلتی نوعیت کے پیش نظر ڈیجیٹل بیداری، بروقت شکایت درج کرانا اور محفوظ آن لائن طرزِ عمل کو ایک عوامی تحریک کی شکل دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا محفوظ استعمال سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خاندان، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، تکنیکی تربیتی اداروں اور حکومت کی مربوط کوششوں سے ہی ایسا ڈیجیٹل ماحول قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔اس پروگرام میں ریاستی خواتین کمیشن کے رکن سیکریٹری مسٹر سریش تومر بھی موجود تھے۔ ’’ریسپانسبل نیٹیزن‘‘ پروگرام کے تحت منعقدہ مکالمے میں خواتین اور بچوں کی بہبود کے شعبے میں کام کرنے والی متعدد رضاکار تنظیموں نے شرکت کی، اپنے زمینی تجربات بیان کیے اور ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے سماجی سطح پر بیداری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔پروگرام میں گوگل کی ڈائریکٹر (سرچ اینڈ جینیریٹو اے آئی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی) محترمہ سنگدھا بھاردواج نے ’’چائلڈ سیفٹی اینڈ اے آئی‘‘ کے موضوع پر کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی بچوں اور معاشرے کے مفادات کو مرکز میں رکھ کر ہونی چاہیے۔
انہوں نے محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آن لائن خطرات کی بروقت شناخت اور بچوں کے لیے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل کی ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اسی موقع پر گوگل کے ٹرسٹ اینڈ سیفٹی شعبے کے مسٹر سمیر نے سائبر سکیورٹی کے مختلف پہلوؤں اور حفاظتی معیارات سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
آہان فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مس سونالی پاٹنکر نے ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق خصوصی اجلاس میں سائبر فراڈ، آن لائن ہراسانی، جعلی لنکس، ڈیٹا سکیورٹی اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال سے متعلق عملی تدابیر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی آج صرف ایک مہارت نہیں بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شریک رضاکار تنظیموں نے خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ، جامع اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل نظام کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت، تکنیکی اداروں، رضاکار تنظیموں اور معاشرے کی مشترکہ کوششوں سے ہی سائبر جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے اور ڈیجیٹل بھارت کے محفوظ مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔









