نئی دہلی 12جون: ہندوستانی سیاست میں بعض خبریں اپنی ظاہری اہمیت سے کہیں زیادہ گہرے اثرات کی حامل ہوتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ترنمول کانگریس اور کانگریس کے درمیان ممکنہ قربت یا انضمام کی قیاس آرائیوں نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ دونوں جماعتوں نے ان خبروں کی تردید کی ہے، لیکن سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ سیاسی ملاقاتیں اور غیر معمولی روابط اکثر مستقبل کے امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممتا بنرجی اور کانگریس قیادت کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کو محض رسمی رابطے قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاملہ صرف دو سیاسی جماعتوں کے تعلقات کا نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی موجودہ سمت اور
مستقبل کی سیاست سے جڑا ہوا سوال ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ملک کی سیاست ایک ایسے مرحلے سے گزری ہے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی قومی سیاست کی سب سے طاقتور قوت بن کر ابھری، جبکہ اپوزیشن مسلسل تقسیم، قیادت کے بحران اور نظریاتی ابہام کا شکار رہی۔ اس دوران کانگریس اپنی تاریخی حیثیت کے باوجود عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور متعدد ریاستوں میں علاقائی جماعتوں نے اس کی سیاسی جگہ پر قبضہ کر لیا۔ ترنمول کانگریس انہی علاقائی قوتوں میں سب سے نمایاں جماعت رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے نہ صرف مغربی بنگال میں بائیں بازو کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا بلکہ بی جے پی کے پھیلتے ہوئے سیاسی اثرات کے خلاف بھی ایک مضبوط مزاحمتی چہرے کے طور پر خود کو منوایا۔
لیکن حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور انتخابی دھچکوں نے ترنمول کانگریس کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور تنظیمی کمزوریوں نے اس کی قیادت کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا موجودہ سیاسی حالات میں تنہا سفر ممکن ہے یا نہیں۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں کانگریس اور ترنمول کی قربت کو دیکھا جانا چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ انضمام ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی اپوزیشن ایک نئے سیاسی فارمولے کی تلاش میں ہے؟
ADVERTISEMENT
جمہوری نظام میں مضبوط اپوزیشن صرف حکومت کی مخالفت کا نام نہیں ہوتی بلکہ وہ عوام کو ایک متبادل سیاسی راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اپوزیشن جماعتیں اس بنیادی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ مختلف جماعتیں اپنے اپنے علاقائی مفادات اور قیادت کے تنازعات میں الجھی رہیں، جس کا سب سے زیادہ فائدہ برسر اقتدار جماعت کو ملا۔ اگر کانگریس اور ترنمول کے درمیان تعاون بڑھتا ہے تو یہ اپوزیشن کی سیاست میں ایک نئی جان ڈال سکتا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ کئی سوالات بھی وابستہ ہیں۔ ترنمول کانگریس کی پوری سیاسی شناخت کانگریس سے علیحدگی کے بعد وجود میں آئی تھی۔ ممتا بنرجی نے خود کانگریس قیادت کے خلاف بغاوت کرکے اپنی جماعت قائم کی تھی۔ ایسے میں مکمل انضمام کی صورت میں ترنمول اپنی انفرادیت اور علاقائی شناخت کو کس حد تک برقرار رکھ سکے گی؟ کیا اس کے کارکن اور ووٹر اس تبدیلی کو قبول کریں گے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب ابھی واضح نہیں۔
ADVERTISEMENT
دوسری جانب کانگریس کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہوگی۔ پارٹی کئی برسوں سے اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اگر وہ علاقائی جماعتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتی ہے تو اسے اپنی روایتی بالادستی کے تصور سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ آج کا ہندوستان 1950 یا 1980 کا ہندوستان نہیں ہے۔ اب ریاستی سیاست اور علاقائی قیادتیں قومی سیاست کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی جماعت قومی سطح پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال بی جے پی کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں اپنی رقابتوں کو پس پشت ڈال کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں تو سیاسی مقابلہ زیادہ متوازن ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحاد صرف انتخابی مجبوریوں سے نہیں چلتے۔ پائیدار سیاسی اتحاد کے لیے مشترکہ نظریہ، واضح پروگرام اور عوامی مسائل پر یکساں مؤقف ضروری ہوتا ہے۔ ماضی میں متعدد اپوزیشن اتحاد اسی وجہ سے ناکام ہوئے کہ وہ صرف اقتدار کے حصول کے لیے وجود میں آئے تھے۔
ADVERTISEMENT
اس پوری بحث کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ ہندوستانی سیاست اس وقت ایک نظریاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ قوم پرستی، ترقی، فلاحی ریاست، وفاقی حقوق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات نئے انداز میں زیر بحث ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن کی کامیابی صرف سیاسی اتحادوں سے ممکن نہیں ہوگی بلکہ اسے ایک ایسا قومی بیانیہ بھی پیش کرنا ہوگا جو عوام کو مستقبل کا واضح خاکہ دکھا سکے۔ اگر کانگریس اور ترنمول سمیت دیگر جماعتیں اس سمت میں پیش رفت کرتی ہیں تو ہندوستانی جمہوریت کو ایک مضبوط اور صحت مند سیاسی مقابلہ میسر آسکتا ہے۔
ADVERTISEMENT
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی طاقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کے توازن میں مضمر ہوتی ہے۔ ایک مضبوط حکومت جتنی ضروری ہے، اتنی ہی ضروری ایک مؤثر اور منظم اپوزیشن بھی ہے۔ موجودہ بحث کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے ترنمول اور کانگریس کا انضمام کبھی نہ ہو، ممکن ہے یہ صرف سیاسی تعاون تک محدود رہے، لیکن اس نے ایک اہم سوال ضرور پیدا کر دیا ہے: کیا ہندوستانی اپوزیشن اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے کوئی مشترکہ راستہ تلاش کر سکتی ہے؟









