بھوپال:16؍مئی:مدھیہ پردیش کے ضلع نیمچ کی ہربل منڈی ریاست کے ادویاتی فصلیں اگانے والے کسانوں کے لیے نعمت ثابت ہوئی ہے۔ یہ ملک کی واحد منڈی ہے جہاں کانٹے، پھول، پتے، چھلکے، بیج، چھال اور جڑ سبھی فروخت ہوتے ہیں۔ کسانوں کو مختلف ادویاتی فصلوں کے 500 روپے سے لے کر 2 لاکھ روپے فی کوئنٹل تک قیمت مل جاتی ہے۔ نیمچ منڈی کی شہرت کو دیکھتے ہوئے گجرات، کرناٹک، راجستھان، مہاراشٹر، اتر پردیش اور چھتیس گڑھ کے کسان بھی اپنی فصلیں یہاں لے کر آ رہے ہیں۔اپریل ماہ تک منڈی میں بھرپور آمد رہتی ہے جو مئی کے آخری ہفتے تک کم ہونے لگتی ہے۔ کسانوں کو مایوس نہیں ہونا پڑتا۔ ہر قسم کی جڑی بوٹی فروخت ہو جاتی ہے۔
مرکزی منڈی احاطے میں 16 شیڈ موجود ہیں۔ یہ واحد منڈی ہے جہاں 40 سے 50 قسم کے ادویاتی پودوں کی خریدی بولی لگا کر کی جاتی ہے۔ مصالحہ فصلوں کی خریدی کرنے والی یہ ملک کی سب سے بڑی واحد منڈی ہے۔
مسٹر نیلیش پاٹیدار نیمچ کے بڑے کسان ہیں۔ ان کے پاس 45 ایکڑ زمین ہے۔ خاندان میں 12 افراد ہیں۔ وہ پچھلے دو تین سال سے مصالحہ فصلوں کی کاشت کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسبغول، ایرانی اکرکارا، چرائتہ، اجوائن، کینوا، چیا سیڈ، تلسی بیج جیسی فصلوں کے بہت اچھے دام مل جاتے ہیں۔ لہسن کے بھی اچھے دام ملتے ہیں۔ نیلیش کو اس بات کی خوشی ہے کہ موہن یادو ادویاتی فصلوں کی پیداوار کے لیے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت جڑی بوٹی کی کاشت کے طریقوں کے تعلق سے اچھی ٹریننگ دلوائے تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ فی الحال حکومت کی طرف سے ہر ضروری سہولت مل رہی ہے۔ مدد حکومت کی اور محنت ہماری۔ جڑی بوٹیاں اگانے والے کسانوں کے لیے نیمچ منڈی ایک بڑا سہارا ہے۔مسٹر پرہلاد سنگھ ضلع رتلام کے اعظم پور ڈوڈیا گاؤں میں رہتے ہیں۔ انہیں اشوگندھا اور اکرکارا بیج فروخت کرنے کے اچھے دام ملے ہیں۔ منڈی میں وقت پر بولی لگ جاتی ہے اور آسانی سے فصل فروخت ہو جاتی ہے۔ کسانوں کو ذرا سی بھی پریشانی نہیں ہوتی۔ منڈی کے تمام لوگوں کا برتاؤ بہت اچھا ہے۔ حکومت نے ہم جیسے چھوٹے اور متوسط کسانوں کے لیے منڈی میں اچھی سہولیات فراہم کر دی ہیں۔
مسٹر پنچم سنگھ بھی اسی گاؤں کے کسان ہیں اور اجوائن، اشوگندھا لے کر آتے ہیں۔ انہیں فوری ادائیگی ہو جاتی ہے۔ منڈی کی سہولیات بہت اچھی ہو گئی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اب منڈی کی شہرت دور دور تک پھیل گئی ہے۔ گجرات، کرناٹک، راجستھان، مہاراشٹر، اتر پردیش اور چھتیس گڑھ کے کسان لمبا سفر طے کرکے یہاں مال لاتے ہیں۔ اچھی تولائی، اچھے دام اور فوری ادائیگی کی وجہ سے سب یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔ اسبغول، اشوگندھا، کلونجی، ستاوری، سفید موسلی، کیسر، سرپگندھا، اکلکارا جڑ جیسی فصلوں کے دام زیادہ ہیں اور مانگ بھی ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔منڈی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے منڈی سیکریٹری مسٹر امیش بسیدیا شرما بتاتے ہیں کہ وقت پر نیلامی، معیاری تولائی اور ادائیگی کا انتظام کسانوں کے لیے نعمت ثابت ہوا ہے۔ کسانوں کے مفاد میں مسلسل سہولیات بڑھائی جا رہی ہیں۔ مالیاتی انتظامات میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ سال 2024-25 میں 64.16 لاکھ کوئنٹل اور 2025-26 میں 72.40 لاکھ کوئنٹل آمد ہوئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ منڈی نے کسانوں کے مفاد کی تمام سہولیات کو مضبوط اور منظم کر دیا ہے۔ نیشنل پلانٹ بورڈ نے ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منڈی کی بنیادی ڈھانچہ جاتی سرگرمیوں کے لیے فراہم کی ہے۔ الیکٹرانک ناپ تول اور سیدھے تاجروں کے گودام تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ منڈی احاطہ 10.9 ہیکٹیئر میں پھیلا ہوا ہے۔ تقریباً 1100 لائسنس یافتہ تاجر اس سے جڑے ہیں اور 150 سے زیادہ تولائی کرنے والے دستیاب رہتے ہیں۔
ادویاتی فصلوں کی پیداوار میں مدھیہ پردیش ملک میں آگے
مدھیہ پردیش ادویاتی فصلوں کی پیداوار میں ملک کی صفِ اول کی ریاست ہے۔ ریاست میں 46 ہزار 837 ہیکٹیئر رقبے میں ادویاتی فصلیں جیسے اسبغول، سفید موسلی، کولیئس اور دیگر فصلوں کی کاشت کی جا رہی ہے۔ سال 2024-25 میں ریاست میں تقریباً سوا لاکھ میٹرک ٹن ادویاتی فصلوں کی پیداوار ہوئی ہے۔
ملک اور بیرونِ ملک ادویاتی فصلوں کی بڑھتی مانگ کی وجہ سے کسان ان فصلوں کی طرف راغب ہوئے ہیں
ملک میں ادویاتی فصلوں کا 44 فیصد حصہ مدھیہ پردیش میں پیدا ہوتا ہے۔موہن یادو کی ہدایت پر ادویاتی پودوں کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ کسانوں کو سبسڈی اور دیگر سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ادویاتی پودوں کی کاشت سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت کسانوں کو ادویاتی پودوں کی کاشت کے لیے 20 فیصد سے 50 فیصد تک سبسڈی دیتی ہے۔ ادویاتی پودوں کی کاشت اور جمع آوری سے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ریاست میں خاص طور پر اشوگندھا، سفید موسلی، گلوئے، تلسی اور کولیئس جیسی کئی ادویاتی فصلوں کی پیداوار ہوتی ہے۔









