نئی دہلی14مئی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور نے تو جیسے تاریخ ہی بدل دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر ہندوستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں ہندوستان زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ انہوں نے آپریشن سندور، سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کی مثال دی۔ وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہندوستانی فوج دہشت گردوں کو سرحد پار جا کر بھی مار سکتی ہے۔ جمعرات کو وزیر دفاع نے کہا کہ ’’ہم نے دنیا کو صاف پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اب ہماری پالیسی زیرو ٹالرینس کی ہے۔ ہم نے 2016 میں سرجیکل اسٹرائیک کر کے دکھا دیا تھا کہ ہندوستان کی فوج سرحد پار جا کر بھی دہشت گردوں کو مار سکتی ہے۔ 2019 میں ہماری بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک نے دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ تباہ کر دیے۔ اس کے بعد آپریشن سندور نے تو جیسے تاریخ ہی بدل دی۔ آپریشن سندور میں ہم نے ایسا کرارا جواب دیا کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے۔‘‘ جمعرات کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ راجستھان میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے جوان ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، بالکل اسی طرح ہماری حکومت بھی منصوبوں کے معاملے میں ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ دس برسوں میں ہندوستان نے اپنی سیکورٹی پالیسی میں تاریخی تبدیلی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ثابت کیا ہے کہ اب ہندوستان خاموشی سے سب کچھ برداشت کرنے والا ملک نہیں رہا۔ اب اگر کوئی ہمارے شہریوں پر حملہ کرے گا تو ہم اسے اس کے گھر میں گھس کر جواب دیں گے۔ کوئی سرحد ہمیں روک نہیں سکتی، کوئی بارڈر رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم سے لے کر خواتین کی حفاظت کے سخت قوانین تک، حکومت ہر سطح پر ناری شکتی کو بااختیار بنا رہی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ہم نے خواتین کو ان کا سیاسی حق دلانے کے لیے انہیں 33 فیصد ریزرویشن دلانے کی بھی پوری کوشش اور انتظام کیا تھا، لیکن اپوزیشن کے ہمارے ساتھیوں کی مخالفت کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔‘‘









