نئی دہلی 14مئی: وزیر اعظم نریندر مودی کی ’بچت والی اپیل‘ کا اثر 12 ریاستوں میں واضح طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تریپورہ میں گروپ ’سی‘ اور ’ڈی‘ کے صرف 50 فیصد سرکاری ملازمین ہی روزانہ دفتر جائیں گے، باقی ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے۔ اسی طرح آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو اور گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے بھی پیٹرول بچانے اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے اپنے قافلے میں گاڑیوں کی تعداد 50 فیصد کم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ پنجاب میں گورنر آفس میں ہر بدھ کو افسران 4 پہیہ گاڑی سے نہیں آئیں گے، جبکہ ہریانہ میں وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی ہفتہ میں ایک دن بغیر گاڑی کے چلیں گے۔ اس سے قبل بدھ کو دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان اور بہار میں بھی وی وی آئی پی قافلوں میں گاڑیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی بدھ کو قافلہ چھوڑ کر صرف 2 گاڑیوں کے ساتھ نکلے۔ عام طور پر وزیر اعظم کے قافلے میں 12 سے 15 گاڑیاں ہوتی ہیں۔ آئیے نیچے نظر ڈالتے ہیں ان 12 ریاستوں پر، جہاں پی ایم مودی کی ’بچت والی اپیل‘ کا خاطر خواہ اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔