بھوپال:13؍مئی:مدھیہ پردیش ریاستی قلیل جنگلاتی پیداوار سنگھ کی پیداواری اکائی، قلیل جنگلاتی پیداوار پروسیسنگ و ریسرچ سینٹر، برکھیڑا پٹھانی، بھوپال میں منعقد ‘‘وندھن سنواد’’ ورکشاپ میں نیوزی لینڈ سے آئے ماہرین نے شہد جمع کرنے، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کی جدید تکنیکوں پر تفصیلی معلومات شیئر کیں۔ ورکشاپ کا مقصد جنگلاتی کمیٹیوں اور وندھن مراکز کو شہد جمع کرنے، آرگینک سرٹیفکیشن، معیار کی نگرانی، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ کی جدید تکنیکوں سے جوڑنا اور مدھیہ پردیش کے شہد کو عالمی بازار میں نئی شناخت دلانا ہے۔ورکشاپ میں نیوزی لینڈ کے نمائندہ وفد کے اراکین مسٹر ایشان جے وردھنے، مسٹر بائرن پیٹر ٹیلر اور محترمہ پریَم اروڑا نے شرکت کرتے ہوئے وندھن ترقیاتی مراکز کے نمائندوں کو شہد پیداوار کے بہترین طریقوں، معیار کی نگرانی اور عالمی معیارات کے مطابق پروسیسنگ تکنیکوں سے آگاہ کیا۔ ماہرین نے پرزنٹیشن کے ذریعے اپنے تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ سائنسی طریقوں اور جدید انتظام کے ذریعے شہد کی پیداوار کو بین الاقوامی بازار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ورکشاپ میں مدھیہ پردیش ریاستی قلیل جنگلاتی پیداوار سنگھ کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ کملیکا موہنتا نے وندھن مراکز اور جنگلاتی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے شہد کے آرگینک سرٹیفکیشن اور برآمدات کو فروغ دینے کی ضرورت ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کے تجربات سے ریاست کے وندھن مراکز کو نئی سمت ملے گی۔
نیوزی لینڈ سے آئے نمائندہ وفد نے ایم ایف پی پارک کی تجربہ گاہ اور شہد پروسیسنگ یونٹ کا دورہ بھی کیا اور وہاں جاری انتظامات کا جائزہ لیا۔ ورکشاپ میں ٹرائیفیڈ، اے پی آئی ڈی اے اور ورلڈ بینک کے نمائندوں سمیت ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے محکمہ جنگلات کے افسران اور وندھن مراکز کے نمائندوں نے شرکت کی۔









