بھوپال 2مئی: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ پانی ہی زندگی ہے اور پانی کا تحفظ ہی محفوظ مستقبل کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی حوصلہ افزا رہنمائی میں جل گنگا سنوردھن مہم کے تحت پانی کو محفوظ رکھنے کے کام میں ہر شخص کو جوڑا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں عوامی شرکت پر مبنی آبی ذخیرہ مہم میں قومی سطح پر پہلا مقام حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی صرف ایک درجہ بندی نہیں بلکہ ریاست کے عوام کی بیداری، شرکت اور مستقبل کے تئیں عزم کی علامت ہے۔ آبی تحفظ اور فطرت کے مطابق طرزِ زندگی بھارتی تہذیب اور روایات میں صدیوں سے رچی بسی ہے۔ ہمارے یہاں ندی، تالاب اور کنوؤں کی صفائی کو نیک کام سمجھا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کی مذہبی اہمیت کو دیکھتے ہوئے گنگا دشہرہ 25 مئی کو آبی ذرائع کے آس پاس صفائی اور شجرکاری کے لیے شرم دان اور دیگر سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔ ان اعمال کا ثواب حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ شہری گنگا دشہرہ پر اپنے آس پاس کے آبی ذرائع اور آبی ڈھانچوں کی صفائی اور دیکھ بھال کے کام سے جڑیں۔ عوام کی یہ پہل مدھیہ پردیش کو آبی تحفظ میں ایک مثالی اور قابلِ تقلید ریاست کے طور پر ملک میں پیش کرے گی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہفتہ کے دن کشابھاؤ ٹھاکرے سبھاگار میں منعقدہ قومی سیمینار میں یہ خیالات ظاہر کیے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آبی ذخیرہ شراکتی مہم میں مدھیہ پردیش قومی سطح پر پہلے نمبر پر رہا ہے۔ مہم کے تحت ریاست میں 5 لاکھ 64 ہزار 119 کام مکمل کیے گئے ہیں۔ ضلع سطح پر ڈنڈوری اور کھنڈوا اضلاع بالترتیب ملک میں پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آنے والی نسلوں کو بہتر، محفوظ اور پائیدار زمین دینا ہماری ذمہ داری ہے، جو مناسب پانی کی دستیابی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے آبی تحفظ کے کام میں ہر شخص کو شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے پنچایتوں، شہری اداروں، سماجی و مذہبی تنظیموں، غیر سرکاری اداروں، خود امدادی گروپوں، تجارتی تنظیموں اور دیگر تمام اداروں سے پانی بچانے کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ پانی بچانے اور آبی ذرائع کی بہتری کے لیے خاندانی اور ذاتی سطح پر بھی لوگ آگے آئیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جل گنگا سنوردھن مہم کے تحت ریاستی حکومت، شہری اور دیہی سطح پر کئی سرگرمیاں چلا رہی ہے۔ پنچایت و دیہی ترقی محکمہ نے 2 لاکھ 43 ہزار 887 کاموں کے لیے 6 ہزار 232 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ ریاست میں 45 ہزار 132 کھیت تالاب، 68 امرت سروور، 77 ہزار 975 ڈگ ویل ریچارج اور واٹر شیڈ سے متعلق 3 ہزار 346 کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔ شہری علاقوں میں بھی تالابوں، کنوؤں اور باولیوں کو تجاوزات سے آزاد کرانے، نالوں اور نالیوں کی صفائی وغیرہ کا کام جاری ہے۔ شہری اداروں کی جانب سے 3 ہزار 40 رین واٹر ہارویسٹنگ یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔ عوامی تعاون سے بڑے پیمانے پر پیاؤ سروسز چلائی جا رہی ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور جن ابھیان پریشد سے منسلک اداروں کے ذریعے عوام کو اس مہم سے جوڑنے کے لیے ترغیب دی جا رہی ہے۔