نئی دہلی یکم مئی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھاری اضافے پر مرکزی حکومت کو سخت نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام پر مسلط کردہ ’انتخابی بل‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ انتخابات کے بعد مہنگائی کی شدت بڑھے گی اور اب یہی ہو رہا ہے۔ راہل گاندھی نے لکھا کہ آج کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کا اضافہ کیا گیا، جو ایک ہی دن میں سب سے بڑی بڑھوتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروری سے اب تک صرف تین مہینوں میں 1380 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جو تقریباً 81 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق اس کا سیدھا اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑے گا، خاص طور پر ان لوگوں پر جو روزمرہ کے کاروبار سے جڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چائے فروش، ڈھابہ چلانے والے، ہوٹل، بیکری اور حلوائی سب کی رسوئی پر اس کا بوجھ بڑھے گا اور آخرکار اس کا اثر عوام کی تھالی تک پہنچے گا۔ راہل گاندھی نے خبردار کیا کہ گیس کے بعد اگلا وار پٹرول اور ڈیزل پر ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے مودی حکومت کو عوام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ مہنگائی کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
اور کمرشیل سلنڈر کی قیمت میں حالیہ اضافہ اسی کا ثبوت ہے۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند مہینوں میں سلنڈر کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے، جس سے مجموعی طور پر ہزاروں روپے کا بوجھ عوام پر پڑ چکا ہے۔