نئی دہلی 25اپریل: راجدھانی دہلی کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر کرتے ہوئے راگھو چڈھا نے عام آدمی پارٹی (عآپ) چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ ان کے ساتھ مزید 6 راجیہ سبھا اراکین بھی بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں، جس سے عآپ کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی قیادت اب اپنے باقی ماندہ اراکین پارلیمنٹ کو متحد رکھنے میں مصروف ہے۔ راگھو چڈھا کا یہ قدم پچھلے چند ہفتوں سے زیر بحث تھا، خاص طور پر اس وقت جب انہیں راجیہ سبھا میں پارٹی کے نائب قائد کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں اسے کیجریوال اور چڈھا کے درمیان بڑھتی دوری کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ بہرحال، بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور پر ان کے حامیوں کے درمیان اس فیصلے کو لے کر جوش کم نظر آیا، جہاں کئی لوگوں نے اسے موقع پرستانہ سیاست قرار دیا، جبکہ کچھ حامیوں نے اسے چڈھا کے نئے سیاسی باب کی شروعات ٹھہرایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد راگھو چڈھا کو سوشل میڈیا پر فالووَرس کی جانب سے شدید دھچکا لگا ہے۔ سامنے آئے اعداد و شمار کے مطابق پارٹی بدلنے کے 24 گھنٹوں کے اندر ان کے انسٹاگرام فالووَرس میں 10 لاکھ سے زیادہ کی کمی درج کی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کے روز راگھو چڈھا کے انسٹاگرام پر 1.46 کروڑ فالوورس تھے، جو ہفتہ کی دوپہر 2 بجے تک گھٹ کر 1.35 کروڑ رہ گئے۔ یعنی ایک دن سے بھی کم وقت میں ان کے فالووَر بیس میں نمایاں کمی آئی۔ اس دوران این سی پی لیڈر انیش گاونڈے نے دعویٰ کیا کہ انسٹاگرام پر چلائی گئی ’جین-زی ان فالو مہم‘ کی وجہ سے راگھو چڈھا کے 24 گھنٹوں کے اندر 10 لاکھ فالووَرس کم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ آپ کو راتوں رات ہیرو بھی بنا سکتا ہے، اور راتوں رات زیرو بھی۔ درحقیقت راگھو چڈھا نے پچھلے کچھ برسوں میں نوجوانوں کے درمیان اپنی الگ پہچان بنائی تھی۔ انہوں نے ایسے مسائل اٹھائے جو براہ راست عام لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی روزمرہ زندگی سے جڑے تھے، لیکن روایتی سیاست میں اکثر نظر انداز کر دیے جاتے تھے۔