نئی دہلی 9مارچ:دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام کو کڑکڑڈوما کورٹ نے پیر کے روز ایک بڑی راحت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے شرجیل امام کو اپنے بھائی کی شادی میں شامل ہونے اور بیمار ماں کی دیکھ بھال کے لیے 10 دنوں کی عبوری ضمانت دی ہے۔ کئی سالوں سے قید و بند کی صعوبت برداشت کر رہے شرجیل امام کے لیے یہ فیصلہ بہت اہم ہے، کیونکہ وہ کچھ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزار پائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی کی عدالت نے شرجیل امام کو 20 مارچ سے 30 مارچ تک عبوری ضمانت دی ہے۔ شرجیل امام نے عدالت میں عرضی داخل کر 10 دنوں کی عبوری رِہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی طرف سے وکیلوں نے دلیل دی کہ ان کے اپنے بھائی کی جلد ہی شادی ہونے والی ہے، ایسے میں گھر والوں کے درمیان ان کی موجودگی ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی ماں کی طبیعت ناساز ہے، جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی دوسرا نہیں۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور گھریلو ذمہ داریوں کو دھیان میں رکھ کر عدالت نے غور و خوض کے بعد شرجیل امام کو عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اخلاقی بنیاد پر راحت دیتے ہوئے شرجیل امام کو 10 دنوں کے لیے جیل سے باہر آنے کی اجازت دی، یعنی تقریباً 10 دنوں بعد شرجیل جیل سے باہر قدم رکھیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں تشدد اُس وقت پیش آیا تھا، جب 2020 میں شہری ترمیم قانون اور این آر سی کو لے کر احتجاجی مظاہرے چل رہے تھے۔ تشدد اور آگ زنی کے دوران 53 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔









