نئی دہلی 9دسمبر: پارلیمنٹ کے رواں سرمائی اجلاس کے دوران پیر کے روز لوک سبھا میں ’وندے ماترم‘ کی 150ویں سالگرہ پر بحث ہوئی، جس میں اتر پردیش کے کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے بھی حصہ لیا۔ انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار انتہائی واضح انداز میں سبھی کے سامنے رکھا۔ ’وندے ماترم‘ کا مطلب سمجھاتے ہوئے اقرا حسن نے حکومت پر زوردار حملہ کیا اور کہا کہ آج ہمیں قومی گیت کی روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ گیت ملک کی فطرت کی تعریف کرتا ہے۔ خاتون رکن پارلیمنٹ نے ’وندے ماترم‘ کے حوالے سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہندوستانی مسلمان اپنی پسند سے ہندوستانی ہیں، اتفاق سے نہیں۔ ’وندے ماترم‘ کے کن الفاظ کو اپنایا جائے اس کا فیصلہ نیتا جی سبھاش چندر بوس اور گرو رابندر ناتھ ٹیگور کی مشاورت سے کیا گیا تھا، کیا اب ہم ان عظیم رہنماؤں کی دانشمندی پر سوال اٹھائیں گے؟ ایس پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ان عظیم شخصیات نے ’وندے ماترم‘ کے ان الفاظ کو اپنایا جنہوں نے ملک کے تمام طبقات کو متحد کرنے کا کام کیا۔ اسی لئے آج ہمیں اس گیت کی روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ گیت ملک کے پانی، جنگلات، زمین، ہریالی اور صاف ہوا کی تعریف کرتا ہے، یہ ہندوستان کے ہر شہری کے لیے نیک تمنا کا اظہارکرتا ہے کہ ملک کا ہر شہری صحت مند، محفوظ رہے اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اقرا حسن نے کہا کہ ’سجلام سُفلام‘ کا مطلب ہے ایسا ملک جہاں وافر مقدارمیں پانی ہو، جہاں دریا زندہ ہوں، بہتے اور زندگی فراہم کرتے ہوں لیکن اب جمنا کی حالت دیکھئے۔ دہلی آلودگی کنٹرول بورڈ 2025 کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جمنا کے کئی حصوں میں بی او ڈی کی سطح 127 ملی گرام تک پہنچ گئی ہے، جب کہ زندہ دریاؤں کے لیے یہ صرف 3 ملی گرام فی لیٹر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف دریا کا بحران نہیں ہے بلکہ کسانوں کا بحران ہے۔ ’نمامی گنگے‘ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہو گئے لیکن سچائی یہ ہے کہ آج کسان گنگا اور جمنا کے کنارے اسی زہریلے پانی میں کھیتی کرنے پر مجبور ہیں۔ جب پانی زہر آلود ہو جائے گا تو’سفلام‘ کیسے ہوگا۔
ڈاکٹر کی لاپرواہی سے خاتون کی موت
بھدوہی:9 دسمبر(یواین آئی) اترپردیش کے ضلع بھدوہی کے شہر کوتوالی علاقے میں منگل کو ایک ڈاکٹر کی لاپرواہی سے زچگی کے دوران ماں کی موت ہو گئی۔ موت سے مشتعل اہل خانہ نے ڈاکٹر پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے دُدّھی-لُمبینی قومی شاہراہ پر جام لگاکراحتجاج کیا۔