نئی دہلی 7نومبر:وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے نیٹ ورک18 کے ایڈیٹر ان چیف راہول جوشی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں الکشن کمیشن کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے ذریعے ووٹ چوری کے اپوزیشن کے دعوؤں کو سختی سے رد کر دیا۔ کانگریس کے راہول گاندھی اور راشٹرِیا جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو کے وہ دعوے کہ بہار میں 65 لاکھ ووٹرز کو نام فہرستوں سے نکالا گیا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’لیکن انہوں نے ایک بھی ٹھوس کیس پیش نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے بار بار کہا ہے کہ اگر آپ کو کوئی شکایت ہے تو ہمارے پاس لے آئیں، ہم تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔ تب بھی، اسی معاملے پر وہ ’ہائیڈروجن بم گرانے‘ یا ’ایٹم بم‘ جیسی باتیں کرتے رہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک چھوٹا سا پٹاخہ بھی جلا نہیں سکے۔‘‘ راہول گاندھی کے ہریانہ اور مہاراشٹر میں ووٹ چوری کے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’انہوں نے اسی سلسلے میں ایک پد یاترا بھی نکالی تھی، مگر انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔ اور اب وہ پچھلے انتخابات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں کو دھوکا دے کر طویل عرصے تک سیاست نہیں کر سکتے۔‘‘ راہول گاندھی کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال کی چیف منسٹر اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی اور تمل ناڈو کے چیف منسٹر اور ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن نے بھی اپنی ریاستوں میں SIR کی مخالفت کی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ بیانات دراصل جائز ووٹروں کے خلاف جمہوری عمل کی خلاف ورزی ہیں۔ ’’میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں : جو لوگ باہر سے آئے تھے، وہ ’انفِلٹریٹرز‘ جن کے نام بہار کے رولز میں شامل تھے، انہیں اب نکالا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو مستقل طور پر روزگار کی تلاش میں بہار سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں یا جو فوت ہو چکے ہیں۔ صرف ان کے نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہوں گے۔‘‘ ہریانہ اسمبلی انتخابات، اکتوبر 2024 میں منعقد ہوئے تھے، جن میں کانگریس کو 90 میں سے 37 نشستیں حاصل ہوئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 48 نشستیں جیتیں اور تیسری بار حکومت بنائی۔ تجزیہ کاروں نے اسے کانگریس کے لیے سیٹ بیک قرار دیا، خاص طور پر اس لیے کہ بہت سے ایگزٹ پولز نے ان کی واضح برتری کی پیش گوئی کی تھی۔

راہول گاندھی نے اپنے نمایاں ’H بم‘ کے بیان میں بدھ کے روز ہریانہ اسمبلی انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹ فراڈ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں 25 لاکھ ووٹ چرائے گئے، جبکہ ریاست میں جملہ ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ ہے۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ ہریانہ میں ہر آٹھویں ووٹر میں سے ایک جعلی ہے، 12.5 فیصد،‘‘۔
اشتہار