نئی دہلی20اگست: دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پر حملے کے واقعے نے نہ صرف ریاستی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ راجدھانی کی سکیورٹی اور قانون و امن کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو اور پارٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے الگ الگ بیانات دیتے ہوئے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے جمہوریت پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پر حملہ بہت ہی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دہلی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک وزیراعلیٰ اپنی ہی سرکاری رہائش گاہ پر، چاق چوبند سکیورٹی کے باوجود عوامی ملاقات کے دوران نشانہ بن سکتی ہیں تو عام خواتین اور عام شہریوں کی حفاظت کا سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ یادو نے مزید کہا کہ دہلی میں بڑھتے جرائم خاص طور پر خواتین کے خلاف وارداتوں کا یہ واقعہ کھلا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق ریکھا گپتا پر حملہ ایک بڑی سکیورٹی چُوک ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس حملے کو معمولی واقعہ سمجھنے کی بجائے ایک بڑے بحران کے طور پر لینا ہوگا۔ یادو نے وزیراعلیٰ کی صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس اگر وزیراعلیٰ کو تحفظ نہیں دے سکتی تو عام شہریوں اور رات کی ڈیوٹی کرنے والی خواتین کی حفاظت کیسے کرے گی۔
انہوں نے اس موقع پر یاد دلایا کہ ابھی حال ہی میں اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ دہلی میں خواتین کو رات کے وقت بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے گی اور ان کی حفاظت کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں گے۔ یادو نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ جب وزیراعلیٰ خود محفوظ نہیں تو رات میں سفر کرنے والی لاکھوں خواتین کی جان و عزت کی حفاظت کون کرے گا۔








