کولکاتا3اگست:بنگلہ زبان بولنے والوں کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی قرار دیے جانے کے خلاف ترنمول کانگریس اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ بنگالیوں اور بنگلہ زبان کی توہین کی جا رہی ہے۔ بنگلہ زبان بولنے کی وجہ سے بنگالی لوگوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اب ترنمول کانگریس نے دہلی پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بنگلہ کو بنگلہ دیشی زبان قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دہلی پولیس سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دہلی پولیس کے ذریعہ لکھے گئے ایک خط کو پوسٹ کیا ہے۔ اس پوسٹ میں ترنمول کانگریس نے لکھا کہ ’’بنگالیوں کے تئیں بی جے پی کی نفرت کی کوئی حد نہیں ہے۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بنگالی بولنے والے لوگوں کو بار بار پریشان کیا جا رہا ہے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اب بنگلہ کو آفیشیل طور پر ’بنگلہ دیشی زبان‘ قرار دیا گیا ہے۔ ہر حد پار کر لی گئی ہے۔‘‘ پوسٹ میں آگے لکھا گیا کہ ’’یہ کوئی کتابتی غلطی نہیں ہے۔ یہ جان بوجھ کر کی گئی توہین ہے، آئینی طور پر تسلیم شدہ ہندوستانی زبان سے اس کی شناخت چھیننے اور لاکھوں بنگالی زبان بولنے والے ہندوستانیوں کو اپنے ہی ملک میں باہر کے لوگوں کے طور پر پیش کرنے کی ایک سرکاری کوشش ہے۔‘‘ ٹی ایم سی نے لکھا کہ ’’دنیا کے 25 کروڑ سے زائد لوگ بنگالی زبان بولتے ہیں اور یہ ہندوستان کی 22 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ اسے ’بنگلہ دیشی‘ کہنا جان بوجھ کر کیا گیا توہین ہے، اس زبان کو غیر قانونی قرار دینے، اس کی ہندوستانی جڑوں کو مٹانے اور بنگالی بولنے والوں کو باہری قرار دینے کی ایک مذموم کوشش ہے۔‘‘ ساتھ ہی ٹی ایم سی نے پوسٹ کی اخیر میں لکھا کہ ’’ ہم بلا شرط معافی، فوری اصلاح اور اس ذلت آمیز فعل کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ ترنمول کانگریس نے ’ایکس‘ پوسٹ پر دہلی پولیس کے خط کے متنازعہ حصوں کو نمایاں کیا ہے۔ جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دہلی پولیس نے لکھا ہے کہ انہیں ایک مترجم کی ضرورت ہے، جو بنگلہ دیشی زبان کا ترجمہ کر سکتا ہو۔ دہلی پولیس نے کچھ لوگوں کو بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا ہے۔ ان کے پاس سے کچھ معلومات ضبط کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات کی تصدیق اور ترجمے کے لیے ہی دہلی پولیس کو مترجم مطلوب ہے۔
’’دہلی اسکول ایجوکیشن بل 2025‘‘ناقابل عمل
نئی دہلی، 03 اگست (یو این آئی) دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے ’’دہلی اسکول ایجوکیشن (فیس کے تعین اور ضابطہ میں شفافیت) بل 2025‘‘کے سلسلے میں ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی سخت نکتہ چینی کی اور اس بل کو ناقابلِ عمل، گمراہ کن اور عوام دشمن قرار دیا۔
مسٹریادو نے اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال حکومت کی طرح بی جے پی بھی تعلیمی اصلاحات کے نام پر محض دکھاوا کر رہی ہے۔ پانچ مہینے میں وزیراعلیٰ ریکھا گپتا یہ طے نہیں کر سکیں کہ بل کو آرڈیننس کے طور پر لایا جائے یا اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ ان کی یہ کشمکش صاف ظاہر کرتی ہے کہ بی جے پی حکومت کی نیت تعلیم کے حوالے سے کتنی غیر حساس اور غیر واضح ہے۔








