نئی دہلی18جولائی: کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنے تازہ نیوز لیٹر میں بہار میں ووٹرز کے حق پر ہونے والے مبینہ حملوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی چالاکیوں اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والی سازشوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے طریقے سے ووٹ کے حق کو متاثر کرنے کی کوششوں پر شدید تنقید کی اور واضح کیا کہ کانگریس اس طرح کی سازشوں کو بے نقاب کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں ووٹ کا حق محض ایک جمہوری عمل نہیں بلکہ ہر شہری کی آواز ہے اور جب اس پر حملہ ہوتا ہے تو صرف جمہوریت نہیں، ہر ہندوستانی کی خودداری پر چوٹ لگتی ہے۔ اسی نیوز لیٹر میں راہل گاندھی نے اوڈیشہ کے حالیہ سیاسی اور آئینی بحران پر بھی بات کی، جہاں انہوں نے ’آئین بچاؤ مکالمہ‘ کے اجلاس کا حوالہ دیا۔ اس اجلاس میں انہوں نے ان خطرات کو اجاگر کیا جو ریاستی حکومت کے فیصلوں سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اوڈیشہ میں قانون سازی کی اقدار کمزور کی جا رہی ہیں، جو طویل المدتی سطح پر آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مہاراشٹر کے کسانوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بغیر کسی مدد کے قرضوں کے بوجھ تلے دبے کسانوں کی خودکشی جیسے افسوسناک واقعات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کسانوں کو درپیش سنگین مسائل پر حکومت کی غفلت کی بھی نشاندہی کی اور اس صورتحال کو ایک اجتماعی ناکامی قرار دیا۔
نیوز لیٹر میں راہل گاندھی نے کہا کہ یہ وقت صرف سوالات اٹھانے کا نہیں، بلکہ عوام کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کے حقوق کے لیے لڑنے کا ہے۔ ان کے مطابق، ’’جمہوریت کی حفاظت صرف انتخابی میدان میں نہیں بلکہ عوامی شعور کی بیداری سے ممکن ہے۔‘‘