نئی دہلی30مارچ: مرکزی حکومت نے شمال مشرقی ریاستوں منی پور، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (افسپا) کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی حالات اور امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد لیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے منی پور کو یکم اپریل 2025 سے چھ ماہ کے لیے ’اشتعال زدہ علاقہ‘ قرار دیا ہے۔ تاہم، ریاست کے 13 پولیس اسٹیشنوں کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں کو اس حکم سے باہر رکھا گیا ہے۔ ان علاقوں میں حالات میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے افسپا کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اروناچل پردیش میں تراپ، چانگ لانگ اور لونگڈنگ اضلاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے تین پولیس اسٹیشن علاقوں میں بھی افسپا کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ اسی طرح ناگالینڈ کے دیماپور، نئولینڈ، مون اور دیگر پانچ اضلاع میں یہ قانون مزید چھ ماہ تک نافذ رہے گا۔ افسپا کے تحت مسلح افواج کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کر سکتی ہیں، تلاشی لے سکتی ہیں اور اگر ضروری ہو تو گولی بھی چلا سکتی ہیں۔ یہ قانون حکومت کو شورش زدہ علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم، یہ قانون متنازع بھی ہے کیونکہ اس کے تحت سیکورٹی فورسز کو وسیع اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں، جن کی وجہ سے بعض اوقات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔ منی پور میں افسپا کی مدت میں توسیع کا فیصلہ وہاں جاری نسلی تشدد اور باغیانہ سرگرمیوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے منی پور میں میتیئی اور کوکی برادریوں کے درمیان تنازع کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناگالینڈ اور اروناچل پردیش میں بھی باغی گروپوں کی سرگرمیوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کے باعث سکیورٹی فورسز کو افسپا کے تحت خصوصی اختیارات دینا ضروری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی سلامتی اور ریاست میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے لیا گیا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں میں حالات میں بہتری کے بعد افسپا کو ہٹایا جائے۔