نئی دہلی 20نومبر:تمل ناڈو میں کتوں کے ذریعہ کاٹے جانے کا معاملہ اب عام بات ہو گئی ہے۔ کئی معاملے ایسے سامنے آ رہے ہیں، جہاں نہ صرف آوارہ کتے، بلکہ گھریلو کتے بھی لوگوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ ریاست کے محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ رواں سال، یعنی 2025 میں اب تک 5.25 لاکھ لوگ کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کتوں کے کاٹنے سے ریبیز انفیکشن کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 درج کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چھوٹے بچے خاص طور سے کتوں کا شکار بن رہے ہیں۔ گلی کے کتے اکثر بچوں پر حملہ کرتے ہیں، چاہے وہ سڑک پر ٹہل رہے ہوں یا اپنے گھروں کے پاس کھیل رہے ہوں۔ اس وجہ سے تمل ناڈو میں کتوں کے کاٹنے کا واقعہ مستقل بڑھ رہا ہے۔ لوگ باہر نکلنے سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔ اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے کئی احتیاطی قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ خاص طور سے چنئی میونسپل کارپوریشن متعلقہ علاقوں میں جا کر آوارہ کتوں کی مفت ٹیکہ کاری کر رہا ہے۔ چنئی میونسپل کارپوریشن نے بتایا ہے کہ اب تک ایک لاکھ سے زیادہ آوارہ کتوں کی ٹیکہ کاری ہو چکی ہے۔ اس درمیان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گھر میں رکھے جانے والے پالتو کتوں کے لیے بھی لائسنس ضروری ہے۔ یعنی پالتو کتوں کو مناسب ٹیکہ کاری اور مائیکرو چپ لگانے کے بعد ہی لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ اگر 24 نومبر 2025 تک لائسنس نہیں لیا گیا تو 5000 روپے تک کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ اس کے لیے چنئی میونسپل کارپوریشن ہر اتوار کو خصوصی کیمپ منعقد کرتا ہے۔ ان کیمپوں میں مفت ٹیکہ کاری، مائیکرو چپنگ اور لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔ پالتو کتوں کے لیے لائسنس آن لائن بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ تمل ناڈو میں ہر سال کتوں کے کاٹنے کا معاملہ بڑھتا ہی جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کی ریبیز انفیکشن سے موت بھی ہورہی ہے .
تھریشر پلٹنے سے نوجوان کی موت
اوریا:20 نومبر(یواین آئی) اتر پردیش کے ضلع اوریا کے تھانہ بیلا حلقے کے ہردُو گاؤں میں کل دیر شام کھیت میں دھان کی کٹائی کے دوران تھریشر پلٹنے سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی۔