نئی دہلی13اگست: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے آج دہلی یونیورسٹی میں طالبات کے لیے ہر سمیسٹر 12 دن ماہواری کی چھٹی کے مطالبے پر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ آرٹ فیکلٹی کے احاطے میں منعقد ہوا، جہاں سینکڑوں طلبہ و طالبات شریک ہوئے۔ موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اس موقع پر این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “بارہ دن کی ماہواری کی چھٹی ہر طالبہ کا بنیادی حق ہے۔ این ایس یو آئی ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور جب تک دہلی یونیورسٹی یہ اصول نافذ نہیں کرتی، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ دنیا کے کئی ممالک اور ہندوستان کی متعدد جامعات میں اس طرح کی سہولت پہلے سے موجود ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں بھی ہم نے اس حق کے لیے تحریک چلائی ہے۔” این ایس یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ ماہواری کے دوران صحت کے مسائل طالبات کی تعلیمی کارکردگی، ذہنی سکون اور یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں شمولیت پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس ضرورت کو نظرانداز کرنے کا مطلب ہے کہ کئی طالبات جسمانی تکلیف کے باوجود کلاسز میں شریک ہوں یا صحت سے سمجھوتہ کریں تاکہ حاضری کے معیار پر پورا اتریں۔









