جامعہ رابعہ بصریہ للبنات میں 30 تاریخ کو ایک نہایت بابرکت، باوقار اور یادگار تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں اُن ہونہار طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی جنہوں نے قرآن و حدیث کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے ادارے اور اپنے سرپرستوں کا نام روشن کیا۔ یہ تقریب نہ صرف تعلیمی کامیابیوں کا جشن تھی بلکہ دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی ایک روشن مثال بھی پیش کر رہی تھی۔
تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے معروف شخصیت ایم۔ڈبلیو۔ انصاری-آئی پی ایس(ریٹائرڈ ڈی جی ) نے شرکت فرمائی، جبکہ اس کی سرپرستی حاجی محمد رفیع خان (ریٹائرڈ کمانڈنٹ) نے کی۔ ان معزز شخصیات کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار اور معنویت عطا کی۔ اپنے خطاب میں مہمانِ خصوصی نے طالبات کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں بچیوں کی تعلیم نہ صرف ایک ضرورت بلکہ ایک مضبوط اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے جامعہ کی کاوشوں کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے ادارے قوم و ملت کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔
اس موقع پر شہر کی مختلف تعلیمی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں کیو سی عارف (منیجر)، جاوید سر (جہانگیریہ گرلس اسکول)، معین سرمکتب اسلامیہ، قاری پرویز فیض الرسول، دروغہ محمد معین الدین خان، مولانا شاکر، ناظمِ تعلیمات حافظ انوار الحق اور حیدر بھائی کے علاوہ بڑی تعداد میں طالبات کے سرپرست حضرات شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خاص طور پر بچیوں کی دینی و اخلاقی تربیت کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔
تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کو انعامات، اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے اور دیگر طالبات کے لیے بھی ایک مثبت پیغام گیا۔ اس موقع پر طالبات کے چہروں پر خوشی اور اعتماد کی جھلک نمایاں تھی، جو ادارے کی کامیاب تعلیمی و تربیتی حکمت عملی کا ثبوت ہے۔
یہ تقریب اس حقیقت کی غماز ہے کہ جامعہ رابعہ بصریہ للبنات نہ صرف دینی علوم کی ترویج میں سرگرم ہے بلکہ عصری تعلیم کے میدان میں بھی بچیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے، تاکہ وہ ایک باوقار اور خود اعتماد شہری کے طور پر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
اختتام پر اجتماعی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی، استحکام اور قبولیت عطا فرمائے اور اسے قوم و ملت کے لیے ایک روشن مینار اور علم و ہدایت کا مرکز بنائے۔









