واشنگٹن 23نومبر:ایسے وقت میں جب امریکی صدر سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں عالمی امن کی باتیں کر رہی ہیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صاف کہا کہ امریکہ کی جانب سے کیف کو بھیجی گئی امن تجویز حتمی پیشکش نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یوکرین چاہے تو پوری طاقت کے ساتھ لڑائی جاری رکھ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ہر حال میں اس تنازع کو ختم کر وائے گا اور توقع ہے کہ یوکرین 27 نومبر تک جواب دے گا۔ اسی بات چیت میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ 2022 میں صدر ہوتے تو روس یوکرین جنگ کبھی شروع ہی نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں امریکی سیاست میں اس وقت بڑی ہلچل ہوئی جب ریپبلکن سینیٹر مائیک راؤنڈز نے بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹرز کو آگاہ کیا کہ امریکہ کی طرف سے تیار کردہ 28 نکاتی امن منصوبہ درحقیقت روس سے موصول ہونے والے مواد پر مبنی ہے۔ حالانکہ امریکی محکمہ خارجہ نے اس دعوے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ دریں اثنا امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یوکرین کے نمائندے جنیوا میں اس مسودے پر نظرثانی اوربات چیت کرنے والے ہیں۔ ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلنسکی نے امریکی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کییف اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے آنے والا مسودہ روس کے مفادات کے قریب نظر آتا ہے اور یوکرین پر اسے قبول کرنے کے لیے دباؤبڑھتا جا رہا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ملک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک اپنے وقار کو بچائے یا ایک بڑے اتحادی کو کھونے کا خطرہ مول لے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور بات چیت کی مکمل ذمہ داری اپنے چیف آف سٹاف اینڈری یرماک کو سونپی ہے۔









