اسلام آباد 2جنوری: مظلوم پاکستانی بلوچ رہنما میر یار بلوچ نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو ایک طویل خط بھیجا ہے۔ یہ خط پاکستان کے بزدلانہ اقدامات کو بے نقاب کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح چین کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف خفیہ سازش رچی جا رہی ہے۔ اس خط میں بلوچ رہنما نے کھل کر بھارت کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کو اکھاڑ پھینکنے کی مانگ کی ہے۔ خط میں پی ایم مودی کا نام لیا گیا ہے اور مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ آگے جانئے ، اس خط میں پاکستان اور چین کے بارے میں کیا ۔ کیا لکھا ہے۔
یکم جنوری 2026 کو میر یار بلوچ نے سوشل میڈیا پر وزیر خارجہ جے شنکر کے نام ایک خط شیئر کیا۔ اس خط میں میر یار بلوچ نے بلوچ تنظیم جمہوریہ بلوچستان کی جانب سے بھارت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور چین، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے بھارت کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ یہ بلوچ اور بھارت دونوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی فوجی دستے براہ راست بلوچستان میں تعینات ہو سکتے ہیں۔ خط میں پی ایم مودی کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت کی حالیہ سیکورٹی پالیسیوں بالخصوص آپریشن سندور کی تعریف کی گئی ہے۔ بلوچ رہنما نے اپریل 2025 میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی فوجی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن قدم قرار دیا ۔ سیاسی اور سیکورٹی کے مسائل کے علاوہ میر یار بلوچ نے ہندوستان اور بلوچستان کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہنگول نیشنل پارک میں واقع شکتی پیٹھ ہنگلاج ماتا مندر کو دونوں خطوں کے درمیان مشترکہ روحانی ورثے کی علامت قرار دیا۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ قدیم تعلقات موجودہ دوطرفہ تعاون کے لیے ایک مضبوط اخلاقی اور ثقافتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ خط میں بلوچ رہنما نے پاکستانی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے خطے میں جبری گمشدگیوں اور وسائل کا استحصال سمیت انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
ابھی تک اس خط پر ہندوستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔