بھوپال، یکم دسمبر : قاضی شہر مولانا سید مشتاق علی ندوی نے موتی مسجد بھوپال میں بروز جمعہ عظمت صحابہ پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرات انبیاء کے بعد روے زمین پر سب سے زیادہ محترم و معظم اور مقدس و برگزیدہ اشخاص حضرات صحابہ کرام ہیں، اللہ تعالیٰ نے جماعت انبیاء کے بعد انہی کی جماعت کو فضیلت وبزرگی عطا کی ہے ، بلا شبہ اصحاب رسول خدا کے منتخب کردہ ،چنندہ اور اللہ کے آخری رسول کے صحبت یاب وتربیت یافتہ لوگ ہیں، ان کی آنکھوں کو دیدار رسول کا شرف حاصل ہوا اور انہیں براہ راست نبوت سے فیض پانے کا موقع نصیب ہوا ، یہی وہ سعادت اور شرف و بزرگی ہے جس نے انہیں پوری امت میں محترم اور ممتاز بنادیا ہے ، یقینا جماعت صحابہ کے بعد قیامت تک بہت سی مبارک ترین جماعتیں اور عظیم الشان ہستیاں پیدا ہوتی رہیں گی جو اپنے علم وفضل کی وجہ سے درجہ کمال کو پہنچ جائیں گی اور پوری دنیا میں ان کے علم وفضل وتقویٰ وطہارت کا ڈنکا بجے گا ، لوگ دور دور سے ان کی صحبت اور ان سے تربیت حاصل کرنے آئیں گے اور ان کی زیارت کو اپنے لئے باعث برکت تصور کریں گے ۔
قاضی شہر نے حاضرین مسجد کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ صحابہ کی شان ،ان کے مقام اور ان کی دینی حمیت ، ذوق عبادت ، شوق شہادت ، انفاق کی کثرت، آپسی محبت ،کفر وشرک سے نفرت اور دیگر اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے ،قرآن کریم میں ایک مقام پر صحابہ کی عبادت ،اہل ایمان سے محبت اور کفر وشرک کی گندگی میں ڈوبے ہوئے لوگوں سے نفرت کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے ’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو آپ کی صحبت پائے ہیں وہ کفار پر بھاری اور آپس میں مہر بان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں ،کبھی سجدہ اور اللہ کے فضل و رضا مندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کے چہروں پر سجدے کے اثر کی نشانیاں ہوتی ہیں،قرآن کریم میں ایک مقام پر ان مبارک ہستیوں کے لئے رضاء الٰہی کی خوشخبری اور جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ صحابہ ٔ کرام کی اس قدر فضیلت ، شان اور بلند ترین مقام کا ذکر کئے جانے کے بعد امت کے کسی بھی فرد کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ان مقدس ترین ہستیوں کی شان میں معمولی سی بھی گستاخی کرے ،ان کی شان میں معمولی گستاخی بھی موجب لعنت وپھٹکار ہے چنانچہ ایک حدیث میں نہایت صراحت کے ساتھ آپﷺ نے صحابہ کو ہد ف ملامت نہ بنانے کا حکم دیا ہے اور جو ان کی شان میں زبان درازی کرتا ہے گویا وہ رسول اللہ سے بغض کی وجہ سے ایسا کرتا ہے ،ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،ان کو میرے بعد ہدف اور نشانہ ملامت مت بنانا ، یاد رکھو جو شخص ان کو دوست رکھتا ہے وہ میری وجہ سے ان کو دوست رکھتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے تو وہ مجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب ان کو دشمن رکھتا ہے اور جس نے ان کو اذیت پہنچائی تو اس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے گویا اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی تو وہ دن دور نہیں جب اللہ اس کو پکڑے گا۔ آج بہت سے لوگ ہیں جو ان برگزیدہ ،محترم اور قابل صد احترام ہستیوں پر زبان درازی کرتے ہوئے خود کو مجرمین کی صف میں کھڑا کر لیتے ہیں اور اس جرم کی وجہ سے اپنی دنیا کو برباد اور آخرت کو تباہ کر لیتے ہیں ،یاد رکھیں کہ یہی وہ مبارک ترین ہستیاں ہیں جن کی ذات قرآن کریم ،نبی کریم اور امت کے درمیان مضبوط ترین واسطہ ہیں ،اگر ان پر زبانیں کھولی گئیں اور ان پر بے اعتمادی کا مظاہرہ کیا گیا تو پورا دین ہی مشکوک ہو کر رہ جائے گا ، ان کی شان میں زبان درازی کرنے سے ان کا تو کچھ نہیں جائے گا مگر جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب کا سب ختم ہو جائے گا ،ان کی عظمت ایمان کو جلا بخشتی ہے اور ان کی اتباع کامیابی دلاتی ہے ،یہ مثالی ہستیاں تھے ،چودہ سوسال کے بعد بھی ان کی مثال پیش کرنے سے تاریخ انسانی عاجز اورعقل انسانی حیران ہے، چنانچہ ان کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید کی گئی ہے اور اسی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔








