نئی دہلی 10فروری: ہر سال سعودی عرب میں جب فریضۂ حج ادا کیا جاتا ہے، تو اس دوران کئی شخص اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو بھی لے جاتے ہیں۔ لیکن اب وہ ایسا نہیں کر پائیں گے، کیونکہ سعودی عرب نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت برائے حج و عمرہ نے فیصلہ لیا ہے کہ اب چھوٹے بچوں کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ ہر سال حج کے دوران بڑھتی ہوئی بھیڑ کو پیش نظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے یہ قدم وزارت حج و عمرہ نے اٹھایا ہے۔ سعودی عرب کے ذریعہ اپنے ویزا اصولوں میں کچھ بڑی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں جو کہ خاص طور سے 14 ممالک کے لیے ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق حکومت سعودی عرب نے 14 ممالک کے ساتھ سیاحت، تجارت اور فیملی اسفار کے لیے ایک سال کے ملٹیپل انٹری ویزا (ایک سے زیادہ مرتبہ داخلہ کی اجازت والا ویزا) کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔ اس نئے ویزا اصولوں سے ہندوستان، پاکستان، الجیریا، بنگلہ دیش، مصر، اتھوپیا، انڈونیشیا، عراق، اردن، مراکش، نائیجیریا، سوڈان، ٹیونیشیا اور یمن اثر انداز ہوں گے۔ نئے اصولوں کے تحت ان ممالک کے لوگ صرف سنگل انٹری ویزا کے لیے درخواست کر سکتے ہیں، جو کہ 30 دنوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب حج و عمرہ سے متعلق اپنے اصولوں میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔ 2024 میں سعودی عرب نے عمرہ کے دوران مکہ واقع مسجد الحرام کے پاس بھیڑ اکٹھا ہونے کے سبب فوٹوگرافی سے لوگوں کو بچنے کا مشورہ دیا تھا۔ وزارت نے بغیر اجازت کسی کی تصویر لینے اور زیادہ دیر تک مسجد الحرام کے پاس فوٹوگرافی کرنے سے پرہیز کرنے کو کہا تھا۔