نئی دہلی11اگست: پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے چوتھے ہفتہ کی شروعات زوردار ہنگامہ آرائی کے ساتھ ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے دونوں ایوانوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جارہی ووٹ چوری پر زبردست ہنگامہ کیا۔ دوسری جانب برسراقتدار طبقہ نے بھی یہ عزم کر رکھا تھا کہ ایک ہی روز میں تمام زیر التوا بل پاس کرا لینا ہے۔ اپوزیشن کی زوردار ہنگامہ آرائی کے دوران پیر (11 اگست) کو لوک سبھا سے 4 اور راجیہ سبھا سے 5 بل پاس ہوئے۔ ان میں انکم ٹیکس بل، ٹیکسیشن لا (ترمیم) بل سے لے کر منی پور بجٹ اور منی پور جی ایس ٹی بل جیسے اہم بل شامل ہیں۔ کچھ بلوں پر مختصر بحث ہوئی تو کچھ بغیر بحث کے ہی پاس ہو گئے۔ لوک سبھا میں انکم ٹیکس بل اور ٹیکسیشن لا (ترمیمی) بل وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پیش کیا۔ یہ بل بغیر بحث کے ہی پاس ہو گئے۔ لوک سبھا سے 2 بل جہاں بغیر بحث کے پاس ہوئے، وہیں دیگر 2 بلوں پر مختصر بحث ہوئی اور زوردار ہنگامے کے دوران ہی متعلقہ محکمہ کے وزیر نے بحث کا جواب دیا۔ انکم ٹیکس اور ٹیکسیشن لا کے علاوہ لوک سبھا سے نیشنل اسپورٹس بل اور نیشنل اینٹی ڈوپنگ بل بھی پاس ہوئے ہیں۔ دوپہر 2 بجے جب ایوان کی کارروائی دوسری بار شروع ہوئی تو وزیر کھیل منسکھ منڈاویہ نے یہ دونوں بل غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا۔ جب یہ دونوں بل پاس ہوئے تو اپوزیشن کے اراکین ایوان میں موجود نہیں تھے۔ ان بلوں پر مختصر بحث ہوئی۔ بحث کے دوران ہی اپوزیشن کے اراکین کارروائی میں شامل ہونے کے لیے پہنچے اور ’ویل‘ میں آ کر نعرے بازی شروع کر دی۔ ہنگامے کے دوران ہی مختصر بحث کے بعد وزیر کھیل منسکھ منڈاویہ نے اس کا جواب دیا۔ دونوں بل لوک سبھا سے پاس ہو گئے، اس کے بعد ایوان کی کارروائی شام 4 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔ شام 4 بجے ایوان کی کارروائی تیسری بار شروع ہوئی۔
لوک سبھا میں انکم ٹیکس بل اور ٹیکسیشن لا (ترمیم) بل پیش ہوتے ہی پاس کر دیے گئے۔