نئی دہلی 10فروری: امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے مقیم بیرون ملکی افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی سختی کے بعد ہندوستان سمیت کئی ممالک کے غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا ہے۔ لیکن امریکہ واحد ایسا ملک نہیں ہے جہاں سے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت کارروائی ہو رہی ہے۔ برطانیہ میں بھی لگاتار چھاپہ ماری کی جا رہی ہے اور ملک میں غیر قانونی طریقے سے کام کر رہے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں کئی ہندوستانی بھی ہیں، حالانکہ ہندوستانیوں کی تعداد سے متعلق کوئی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں بتیا گیا ہے کہ برطانیہ نے رواں سال جنوری ماہ میں 600 سے زائد غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے لیے تقریباً 800 مقامات پر چھاپہ ماری کی گئی تھی۔ برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے غیر قانونی مہاجرین کے بارے میں ڈاٹا جاری کیا ہے۔ اس ڈاٹا کے مطابق جولائی ماہ سے اب تک 3930 گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ ان میں بیشتر افراد کیفے، کار دھلائی، نیل بار اور ویپ کی دکانوں میں کام کرنے والے ہیں۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، ان میں بتایا جا رہا ہے کہ انتخاب کے بعد سے 16400 سے زائد لوگوں کو برطانیہ سے ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مہاجرین کے خلاف لگاتار کارروائی جاری ہے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے لوگوں میں 800 سے زیادہ کو چارٹرڈ طیارہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں داخلہ سکریٹری یویٹے کوپر کا کہنا ہے کہ امیگریشن اصولوں پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے اور انھیں نافذ کیا جانا چاہیے۔ طویل مدت سے کچھ کمپنی مالکان غیر قانونی مہاجرین کو ملازمت پر رکھنے اور ان کا استحصال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ بہت سے لوگ غیر قانونی طریقے سے برطانیہ آنے اور کام کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں، لیکن کبھی بھی کوئی انفورسمنٹ کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کام میں یقینی طور پر چیلنجز پیش آئیں گے، لیکن ہم ان غیر قانونی مہاجرین اور ان کو لانے والے گروہ کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔